حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 285
حیات احمد ۲۸۵ جلد پنجم حصہ دوم۔اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہو گیا اور میں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بن ہیں جن میں بیل ، گدھے، گھوڑے، کتے ، سؤر ، بھیڑیے ، اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بد عملوں سے ان صورتوں میں ہیں۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہو گیا ہے وہ میرے پاس آ بیٹھا ہے اور قطب کی طرف اُس کا منہ ہے خاموش صورت ہے آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد ان بنوں میں سے کسی بن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بن میں داخل ہوتا ہے تو اس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شور قیامت اٹھتا ہے اور اُن جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چاہنے کی آواز آتی ہے۔تب وہ فراغت کر کے پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھ رہتا ہے اور پھر دوسرے بن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے۔آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور میں اُس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پر ہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کو حکم ہوتا ہے۔تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دَابَّةُ الأَرض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کالے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے ہی دَابَّةُ الْأَرْضِ جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدا سے مقرر ہے۔یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا