حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 255 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 255

حیات احمد ۲۵۵ جلد پنجم حصہ دوم وہ لوگ جو کہ معرفت حق میں خام ہیں بت ترک کر کے پھر بھی بُتوں کے غلام ہیں (الحکم مورخ ۲۴ /نومبر ۱۹۰۱ صفحه ۵ ) یہ اشعار پھر دوبارہ پڑھے گئے جس وقت یہ اشعار جو حضرت اقدس نے خاص اسی تقریب کے لئے چند منٹ میں لکھ کر دیئے تھے فونوگراف سے نکل رہے تھے تو احمدی جماعت کے ایمان میں ترقی اور تازگی آتی تھی اور ان کے چہروں سے خوشی اور لذت کے آثار نمایاں تھے برخلاف اس کے جو لوگ فونوگراف سننے کی درخواست کرنے والوں میں تھے ان کے چہروں پر ایک رنگ آتا اور ایک جاتا تھا مجبور تھے سننا پڑا۔اس کے بعد فونوگراف نے پھر حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی آواز میں یہ چند شعر حضرت اقدس کے ایک الہامی نعتیہ قصیدے کے بنائے۔عجب توریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد ز ظلمت با دلے آنگه شود صاف که گردد از محتانِ محمد عجب دارم دل آں ناکسان را کہ رُو تابند از خوان محمد ندانم بیچ نفسے در دو عالم که دارد شوکت شان محمد ترجمه (۱) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمد کی کان میں ایک عجیب وغریب لعل ہے۔(۲) دل اس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمد صلعم کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔(۳) میں اُن نالائقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمد صلعم کے دستر خوان سے منہ پھیر تے ہیں۔(۴) دونوں جہان میں میں کسی شخص کو نہیں جانتا جو محمد صلعم کی سی شان و شوکت رکھتا ہو۔