حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 16 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 16

حیات احمد ۱۶ جلد پنجم حصہ دوم ۲۸ / اگست ۱۹۰۱ء کی صبح کو حضرت نے فرمایا کہ ”ہمارے مخالف دو قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو مسلمان ملا مولوی وغیرہ۔دوسرے عیسائی انگریز وغیرہ۔دونوں اس مخالفت میں اور اسلام پر ناجائز حملے کرنے میں زیادتی کرتے ہیں آج ہمیں ان دونوں قوموں کے متعلق ایک نظارہ دکھایا گیا اور الہام کی صورت پیدا ہوئی مگر اچھی طرح یاد نہیں رہا۔انگریزوں وغیرہ کے متعلق اس طرح سے تھا کہ ان میں بہت لوگ ہیں جو سچائی کی قدر کریں گے اور ملا مولویوں وغیرہ کے متعلق یہ تھا کہ ان میں سے اکثر کی قوت مسلوب ہوگئی ہے۔“ ( الحکم جلد نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۹- تذکر صفحه ۳۳۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء) فرمایا۔آج ہم نے رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا دربار ہے اور ایک مجمع ہے اور اس میں تلواروں کا ذکر ہو رہا ہے تو میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ ”سب سے بہتر اور تیز تر وہ تلوار ہے جو تیری تلوار میرے پاس ہے“۔اس کے بعد ہماری آنکھ کھل گئی اور پھر ہم نہیں سوئے کیونکہ لکھا ہے کہ جب مبشر خواب دیکھو تو اس کے بعد جہاں تک ہو سکے نہیں سونا چاہیے اور تلوار سے مراد یہی حربہ ہے جو کہ ہم اس وقت اپنے مخالفوں پر چلا رہے ہیں جو آسمانی حربہ ہے“۔( الحکم جلد۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۹۔تذکره صفحه ۳۳۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء) فرمایا۔میں نے ایک مرتبہ (رویا) دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے میں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو تو اس نے کہا اس پر اور ہن لکھا ہوا ہے۔مجھے اس سے کراہت آئی۔میں نے اسے کہا کہ تو مجھے دکھا۔جب میں نے پھر ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا۔اَرَدْتُ اَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ _ * الحکم جلد ۵ نمبر ۳۹ مورخه ۲۳ ا کتوبر ۱۹۰۱ صفحه ۲۔تذکره صفحه ۳۳۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ۳۰ ستمبر ۱۹۰۱ء کی رات کو حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام نے ۱۲ بجے کے قریب ایک رویا دیکھی اور آپ نے حضرت اقدس کو اسی وقت اس رویا سے اطلاع دی ، اور وہ یوں ہے۔عیسی کا مسئلہ حل ہو گیا۔خدا کہتا ہے میں جب عیسی کو اُتارتا ہوں تو پوڑی کھینچ لیتا ہوں۔اس کے معنے مل ( ترجمہ از مرتب ) میں نے ارادہ کیا کہ خلیفہ بناؤں۔پس میں نے آدم کو پیدا کیا۔