حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 235 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 235

حیات احمد ۲۳۵ جلد پنجم حصہ دوم میں رہتے ہیں ٹیکا کی کچھ ضرورت نہیں کیوں کہ جیسا میں ابھی بیان کر چکا ہوں آج سے ایک مدت پہلے وہ خدا جوزمین و آسمان کا خدا ہے جس کے علم اور تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں اس نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ میں ہر ایک ایسے شخص کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو اس گھر کی چاردیوار میں ہوگا بشرطیکہ وہ اپنے تمام مخالفانہ ارادوں سے دستکش ہو کر پورے اخلاص اور اطاعت اور انکسار سے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور خدا کے احکام اور اس کے مامور کے سامنے کسی طور سے متکبر اور سرکش اور مغرور اور غافل اور خود سر اور خود پسند نہ ہو اور عملی حالت موافق تعلیم رکھتا ہو اور اس نے مجھے مخاطب کر کے یہ بھی فرما دیا کہ عموماً قادیان میں سخت بر بادی افگن طاعون نہیں آئے گی جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سرگردانی کے دیوانہ ہو جائیں اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پورے طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو ان پر طاعون وارد ہوسکتی ہے مگر انجام کارلوگ تعجب کی نظر سے اقرار کریں گے کہ نسبتا و مقابلہ خدا کی حمایت اس قوم کے ساتھ ہے اور اس نے خاص رحمت سے ان لوگوں کو ایسا بچایا ہے جس کی نظیر نہیں۔اس بات پر بعض نادان چونک پڑیں گے اور بعض ہنسیں گے اور بعض مجھے دیوانہ قرار دیں گے اور بعض حیرت میں آئیں گے کہ کیا ایسا خدا موجود ہے جو بغیر رعایت اسباب کے بھی رحمت نازل کر سکتا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں بلاشبہ ایسا قادر خدا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو اس سے تعلق رکھنے والے زندہ ہی مر جاتے وہ عجیب قادر ہے اور اُس کی پاک قدرتیں عجیب ہیں۔ایک طرف نادان مخالفوں کو اپنے دوستوں پر کتوں کی طرح مسلط کر دیتا ہے اور ایک طرف فرشتوں کو حکم کرتا ہے کہ ان کی خدمت کریں۔ایسا ہی جب دنیا پر اس کا غضب مستولی ہوتا ہے اور اس کا قہر ظالموں پر جوش مارتا ہے تو اس کی آنکھ اس کے خاص لوگوں کی