حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 234 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 234

حیات احمد ۲۳۴ جلد پنجم حصہ دوم روپیہ کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لیا در حقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر گزاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے اور سخت نادان اور اپنے نفس کا وہ شخص دشمن ہے کہ جو ٹیکا کے بارے میں بدظنی کرے کیونکہ یہ بارہا تجر بہ میں آچکا ہے کہ یہ محتاط گورنمنٹ کسی خطرناک علاج پر عمل درآمد کرانا نہیں چاہتی بلکہ بہت سے تجارب کے بعد ایسے امور میں جو تد بیر فی الحقیقت مفید ثابت ہوتی ہے اسی کو پیش کرتی ہے سو یہ بات اہلیت اور انسانیت سے بعید ہے کہ جس بچی خیر خواہی کے لئے لکھوکھہا روپیہ گورنمنٹ خرچ کرتی ہے اور کر چکی ہے اس کی یہ داد دی جائے کہ گویا گورنمنٹ کو اس سر دردی اور صرفِ ذَر سے اپنا کوئی خاص مطلب ہے وہ رعایا بدقسمت ہے کہ بدظنی میں اس درجہ تک پہنچ جائے۔کچھ شک نہیں کہ اس وقت تک جو تد بیر اس عالم اسباب میں اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ آئی وہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ یہ تدبیر ہے کہ ٹیکا کرایا جائے اس سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ تدبیر مفید پائی گئی ہے اور بپابندی رعایت اسباب تمام رعایا کا فرض ہے کہ اس پر کار بند ہو کر وہ غم جو گورنمنٹ کو ان کی جانوں کے لئے ہے اس سے اس کو سبکدوش کریں لیکن ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے سواس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقوی سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا تا وہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے۔لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے اس کے لئے مت دلگیر ہو یہ کم الہی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے نفس کے لئے اور ان سب کے لئے جو ہمارے گھر کی چاردیوار