حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 207
حیات احمد ۲۰۷ جلد پنجم حصہ دوم اب میں اپنی جماعت کے روحانی بھائیوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ اس غضب الہی کی آگ اور ہولناک عذاب سے بچنے کے لئے ہمارے پاس دوسامان ہیں ایک ایمان دوسرا تقوی ایمان تو یہ ہے کہ ہم اپنے کامل یقین سے جان لیں کہ ہمارے پاس اس عذاب الہی سے بچنے کے لئے اپنے ہادی و مولیٰ حضرت امام الزمان پر کامل ایمان لانے اور ان کی مخلصانہ اتباع کے بغیر کوئی صورت نہیں اگر ہم بچیں گے تو حضور ہی کی مخلصانہ اتباع کے سبب اور اگر مریں گے تو ان کی ہی مخالفت کے باعث گویا کہ ہماری زندگی اور موت حضور کی اطاعت اور مخالفت پر موقوف ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ ہم اس بات سے ہر وقت ڈرتے اور اپنی تمام حرکات و سکنات کو ٹولتے رہیں کہ کسی امر میں ہم اپنے ہادی و مولیٰ کی ہدایات اور ان کی امن بخش اطاعات سے باہر نہ رہ جائیں تا کہ اچانک عذاب الہی کا شکار نہ بنیں کیوں کہ اس عذاب سے بچنے کے لئے امن و پناہ سوائے اطاعت احمدیہ کے نہیں جو اس کے اندر رہے گا یقیناً بچ جائے گا کیونکہ ہمارا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ یہ عذاب جو اب دنیا کو ہلاک کر کے عدم کی راہ دکھا رہا ہے صرف حضرت امام الزمان کی مخالفت کے سبب سے ہے اس لئے یہ بات سنت اللہ کے خلاف ہے کہ یہ عذاب حضرت اقدس کے مخلص متبعین پر بھی کسی طرح کا اثر ڈالے جیسا کہ قرآن کریم کی صد ہا نظیروں سے یہ بات ثابت شدہ صداقت ہے کہ گزشتہ زمانوں میں حضرت انبیاء کے مخلص ایمان دار عذاب الہی کے وقت نجات پاتے رہے ہیں اور یہ بات صرف پہلے ہی نہ تھی بلکہ اب بھی ہے جیسا فرمایا۔كَذلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِينَ يا مگر مومن مخلص بننا شرط ہے کیوں کہ اگر مومن نہ ہو گا تو وہ حضرت لوط کی بیوی اور حضرت نوح کے بیٹے کی طرح صرف جسمانی قرابت یا تعلق کی وجہ سے بچ نہیں سکتا اس لئے ہر ایک مومن احمدی بھائی کو لازم ہے کہ حضرت امام الزمان کی چھوٹی اور بڑی مخالفت سے ڈرتا ہوا اور کانپتا ہوا ہر وقت استغفارا وردعا میں مشغول رہے تا کہ جو بار یک بار یک امروں میں نادانی کے سبب ہم سے اکثر اوقات مخالفت ہو جاتی ہے اس کا کفارہ ہوتا رہے اور خدا تعالیٰ اس کے انتقام کے لئے اپنے مواخذہ سے محفوظ رکھے اور ا یونس : ۱۰۴