حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 206 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 206

حیات احمد ۲۰۶ جلد پنجم حصہ دوم خاص حصہ سے جس میں اس پاک تبدیلی کا نمونہ قائم کیا جاوے بفضلہ تعالیٰ رفع ہوگا ، کیوں کہ اس کا اصل سبب گناہ اور امام الوقت کی مخالفت ہے۔اس لئے جب تک اصل سبب دور نہ ہو اور غضب الہی کی یہ آگ جو مخالفت اور گناہ کے باعث مشتعل ہو رہی ہے ، فرو نہ ہو یہ عذاب ، دنیا سے موقوف نہ ہو گا مگر میں ڈرتا ہوں کہ دنیا میری اس عرضداشت کو ایک سرسری نگاہ سے نظر انداز کر کے اُس وقت کی انتظاری کرے جبکہ دامنِ اجابت ہاتھ سے چھوٹ جائے اور تو بہ کا دروازہ بند ہو جاوے کیوں کہ ایسے وقت میں جبکہ شرارت انتہا کو پہنچتی ہے اور قطعی فیصلہ کا وقت آ جاتا ہے تو مخالفوں کے حق میں انبیاء کی بھی دعا قبول نہیں ہوتی دیکھو حضرت نوح نے طوفان کے وقت اپنے بیٹے کنعان کے لئے جو کافروں اور منکروں سے تھا دعا کی اور قبول نہ ہوئی ( دیکھو سورہ ہو درکوع ۲) اور ایسا ہی جب فرعون ڈوبنے لگا تو خدا پر ایمان لا یا مگر قبول نہ ہوا۔ہاں اس خاص وقت سے پہلے اگر رجوع کیا جاوے تو البتہ قبول ہوتا ہے وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ لا یعنی جس وقت خفیف سے آثار عذاب کے ظاہر ہوں تو اس وقت کی توبہ قبول ہوتی ہے اس لئے میں بار بار کہتا ہوں کہ ابھی اس عذاب الہی کا دنیا میں صرف آغاز ہی ظاہر ہوا ہے اور اس کا انتہا اور غایت نہایت ہی سخت ہے لہذا لوگوں کو چاہیے کہ اس خاص ہلاکت کے وقت سے پہلے خدا کی طرف رجوع کرلیں اور خدا اور رسول اور امام وقت کی اطاعت کریں اور تو بہ وترک معصیت دعا و استغفار کے ساتھ اس کا دفعیہ چاہیں اور اپنے اندر ایک نیک و پاک تبدیلی پیدا کریں تا کہ اس ہولناک عذاب سے محفوظ رہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہمیشہ مومنوں کو ہی نجات دیا کرتا ہے جیسا کہ فرمایا كَذَلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِينَ۔اب ہم اس مضمون کو اس دعا پر ختم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم کو اور کل مومنوں کو اس بلا سے بچائے اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرے اور باہم صلح و صلاحیت حاصل کرنے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔السجدة : ٢٢ یونس: ۱۰۴