حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 203 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 203

حیات احمد ۲۰۳ جلد پنجم حصہ دوم سورج کو جب ایک ہی مہینے یعنی رمضان میں گہن ہو گا تو لوگ اس کے بعد بھاگنے کی جگہ ڈھونڈیں گے اور نہ پاویں گے۔سوائے اس کے کتب مقدسہ میں بھی اس زمانہ کے متعلق بہت سی پیشن گوئیاں موجود ہیں۔دیکھو یسعیاہ باب ۴ ، ۶۶/۱۵ اور ۵۰ زبور ۳ آیت و دانی ایل ب۱۳- حزقی ایل ۱۵ - ۳۷/۲۸ و حقوق ۳- صفنیاہ ۳ میکا ۴۰۔متی ۱۳/۴۰ و ۱۵- ۲۴/۳۱۔مکاشفات ۱۶۔۱۵ ان کتابوں میں اس زمانہ کا پورا اور کامل فوٹو موجود ہے۔ہاں اگر یہ سوال ہو کہ ہم کیوں کر مانیں کہ یہ عذاب امام الوقت کی مخالفت کے باعث ہم پر آ گیا ہے تو اس کا جواب ہم آیات ذیل سے دیتے ہیں جیسا فرمایا۔وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أَمِهَا رَسُوْلًا لے یعنی ہم کسی بستی کو بھی ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ ان کے درمیان کوئی رسول نہ بھیجیں اور دوسری جگہ فرمایا وَلِكُلّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ یعنی ہر ایک قرن کے لوگوں کا فیصلہ اسی وقت ہوتا ہے جبکہ ان کے پاس رسول آتا ہے پس جب ایک طرف ایک رسول یعنی حضرت امام الزماں موجود ہیں جو دنیا کو حق اور راستی کی طرف بلا رہے ہیں اور دوسرے طرف ان کی تکذیب بھی بڑے زور وشور سے ہو رہی ہے اور تیسری طرف ایک ہولناک عذاب بھی دروازہ پر کھڑا ہے تو کیا سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ وہی مخالفت اور شرارت ہماری جو ایک مامور من اللہ کے حق میں کر رہے ہیں عذاب کے رنگ میں متمثل ہو کر ہمارے سامنے آگئی ہے یا یوں کہو کہ اس عذاب کا اصل سبب وہی تکفیر اور تکذیب ہے جو دنیا کی ہلاکت کا باعث ہوئی وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِرُ ونَ کے یعنی گھیر لیا ان کو اس چیز نے جو تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے۔ہم نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا کہ مخالف لوگ حضرت مسیح الزمان کی اس پیشگوئی پر جو اسی طاعون کے بارے میں آج سے چار سال پہلے شائع کی گئی تھی کہ ملک پنجاب میں طاعون پڑے گا۔نسی اور ٹھٹھا کرتے تھے کہ وہ طاعون کیا ہے علاوہ اس کے جب ل القصص : ۶۰ ۲ یونس : ۲۸ هود:۹