حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 179 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 179

حیات احمد ۱۷۹ جلد پنجم حصہ دوم نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول کہ ”من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں با وجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی میں ہے۔اس واسطہ کوملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسٹمی ہوکر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیوں کہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔یہ بات ظاہر ہے کہ جیسا کہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی میرے مخالف حضرت عیسی ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہو گا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی کہ خاتم النبین کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ے کے بعد جو در حقیقت خاتم انہین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا