حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 178
حیات احمد ۱۷۸ جلد پنجم حصہ دوم تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنے اظہار امرغیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں خدا سے خبر پاکر پیشگوئی کرنا اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خورد یکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیوں کر رڈ کر دوں یا کیوں کر اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کر نالنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفتہ اللہ ہوں مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے کیونکہ خدا کی تائید ان کے ساتھ نہیں۔اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر