حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 172
حیات احمد ۱۷۲ جلد پنجم حصہ دوم بیماریاں تھیں تو بجائے خود حضرت نبی کریم ﷺ کی پیشگوئی کا ثبوت اور آپ کے حق پر ہونے کی دلیل تھیں قارئین کرام پڑھ آئے ہیں کہ اعجاز المسیح کن حالات میں لکھی گئی اور یہی حال تمام تالیفات کا ہے۔میں جو آپ کی خدمت میں حاضری کی سعادت سے بہرہ یاب ہوں اور ان بزرگوں نے جن کو مجھ سے بھی زیادہ آپ کے قرب میں رہنے کا موقعہ ملا اس امر کے عینی گواہ ہیں کہ تائیدات الہیہ کس طرح آپ کے شامل حال تھیں۔یہ متفرق امور از سرتا پا خدمت دین اور اس مقصد عظیم کی تکمیل کے تھے جو آپ مہدی اور مسیح موعود کے منصب پر سرفراز ہو کر لائے تھے۔جماعت کی تنظیم اور تعلیم تو مقدم کام تھا ہی اور اس کے ساتھ ان غلط فہمیوں کا رفع کرنا ضروری تھا جو دشمنی پیدا کرتے تھے ایک طرف یہ غلط فہمیاں سیاسی ہوتیں تا کہ گورنمنٹ وقت کو خلاف ابھارا جاوے اور دوسری طرف مذہبی نکتہ چینیاں جو مذاہب باطلہ کی طرف سے الگ پیدا کی جاتیں اور خود مسلمانوں کی طرف سے الگ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اسلام پر اعتراض کرنے والوں کے مقابلہ پر جب آپ میدان میں آتے تو خود مسلمان (بعض) اپنی کم علمی کے سبب سے آپ کی مخالفت کی غرض سے اکثر دشمنوں کا ساتھ دیتے۔بہر حال آپ کو ہر لحظہ اس مقابلہ کے لئے تیار رہنا پڑتا اور مقدمات کی صورت میں بھی دوسرے مذاہب کے لوگ ہماری مخالفت میں کھڑے ہو جاتے ان حالات میں تصنیف و تالیف کے سلسلہ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بھی بجائے خود ایک اعجاز ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور زندگی بخشی تو سیرت کے باب میں ایک تفصیلی اور علمی بحث کا ارادہ ہے اب میں ان ضمنی امور پیش آمدہ کا ذکر کرتا ہوں۔