حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 171 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 171

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم اختیار میں نہ تھا اس لئے کہ سارا زمانہ دشمن تھا اور پھر ان حالات میں قبل از وقت اپنی کامیابی کا اعلان کرنا ناممکن تھا اور عجب بات یہ ہے کہ اسی طرح پر پورا ہوتا ہے۔ایک فرانسیسی مصنف ایک فرانسیسی مصنف نے اپنی ایک کتاب میں ( جو تاریخ اسلام پر لکھی گئی ) حیرت زدہ ہو کر ایک واقعہ لکھا ہے وہ کہتا ہے کہ مدینہ کی ایک چھوٹی سی مسجد میں جو بارش میں ٹپکتی ہے اور اس میں کوئی فرش نہیں چند لوگ بیٹھے ہیں اور وہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں یہ لوگ بظاہر کوئی ساز وسامان نہیں رکھتے یہاں تک کہ بدن پر پورا لباس بھی نہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ اسی رنگ میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور قوتوں سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان حقائق کو نہیں سمجھ سکتے۔ٹھیک اسی طرح پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبل از وقت اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر ان مقدمات کے متعلق آخری فیصلہ شائع کر دیا اور مقدمات کے ایک لمبے اور صبر آزما سلسلہ کے بعد جو فیصلہ ہوا وہ اسی پیشگوئی کے موافق حرف بحرف ہوا، ظاہر ہے کہ سوائے عَلَّامُ الغُيُوب اللہ تعالیٰ کے مقادیر کا صحیح علم کسی انسان کو نہیں ہو سکتا۔ان ابتدائی امور کا میں نے اس لئے ذکر کر دیا ہے تا کہ قارئین کرام اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ حضرت مسیح موعود اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت ہر رنگ میں آپ کے ساتھ تھی۔کچھ متفرق امور قبل اس کے کہ میں مقدمات کے مزید حالات بیان کروں اس اثناء میں بعض دوسرے امور جو حضرت کے راہ تبلیغ میں پیش آگئے ان کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں اس سے معلوم ہوگا کہ کس قدر عظیم الشان کام آپ کر رہے تھے اور باوجود عمر رسیدہ ہونے اور آئے دن کی بیماریوں کے جو لازم حال تھیں اس قدر کام اللہ تعالیٰ کی تائید اور خاص نصرت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔