حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 136
حیات احمد ۱۳۶ جلد پنجم حصہ دوم زبانیں اور قلمیں مخالفت کرتی ہیں اُس سے جو تمہارے دل میں ہے اور جو تمہارے اعمال سے ظاہر ہو رہا ہے۔تمہیں اسی طرح اس تحدی کے مقابلہ اور معارضہ سے خدا تعالیٰ نے عاجز کر دیا جس طرح کفار عرب کو فَأْتُوا بِسُورَةٍ کے مقابلہ میں بے دست و پا کیا تھا۔تمہارے علماء پر تمہارے ادباء پر، چھوٹے پر بڑے پر ، تمہارے صوفیوں پر ، تمہارے سجادہ نشینوں پر ، خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو گئی اور ۲۲ فروری جمعہ کے دن آسمان سے آواز آ گئی کہ تم سب کے سب مخذ دل و مقہور ہو اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی خدا کے منصور اور موید ہیں فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔بالآ خرمنکرین اور معاندین کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔سنو اور خدا کے لئے سنو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں جس کا عنوان ہے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑی کیا لکھا تھا جسے حکیم قادر خدا تعالیٰ نے ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو اپنی قدرتوں اور زور آوریوں سے پورا کر کے دکھایا۔اس سے زیادہ آپ لوگوں کے لئے کوئی نشان نہیں ہو سکتا سوچو اور غور کرو کہ کس طرح خدائے غیور نے اپنے فرستادہ کی مدد کی اور اس کے منہ کی باتوں کی لاج رکھ لی۔کیا کبھی تم نے پڑھا اور سنا ہے کہ کسی کا ذب کو آسمان وزمین کے خدا نے ایسی نفرتیں دی ہیں؟ اگر یہ استدراج ہے تو وہ نصرتیں کہاں اور کیسی ہیں جو عبادالرحمن کو ملا کرتی ہیں؟ سنو ! اشتہار مذکور میں خدا کا نذیر کیا لکھتا ہے اور منشی الہی بخش صاحب اکا ؤنٹنٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کی جھوٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے بات تو تب ہے کہ کوئی انسانی حیا اور انصاف کی پابندی کر کے کوئی امر بھی ثابت بھی کرے۔اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں جیسا کہ وہ دعوی کر بیٹھے ہیں تو اب چار جز وعربی تفسیر سورہ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت ستر دن میں اپنے گھر میں ہی بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنا ان کے لئے کیا مشکل بات ہے؟ ان کی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب ان پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہوا