حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 135
حیات احمد ۱۳۵ جلد پنجم حصہ دوم پر بھی جو ایک صادق کو کاذب کہے۔غرض غیور خدا تعالیٰ نے کچھ دیر صبر کیا تا کہ بندوں کی دانش اور ایمان کو آزمائے اور جب دیکھ لیا کہ سیاہ دل بیدادگر باز نہیں آتے ہنوز مہر شاہ کو آسمان پر چڑھا رہے ہیں تب اس کی غیرت نے جوش مارا اور اپنے بندہ کے دل میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی تحریر القا کی اور یہ بڑی صاف اور فیصلہ کی راہ اور حق وصدق اور کذب کا معیار تھی اور یہ کام پہلے کام سے آسان تر تھا اس لئے کہ گھر میں بیٹھ کر لکھنا اور کتابوں سے مدد لے کر لکھنا اور دیگر شہدا کو اپنی تائید میں جمع کرنا اس میں ممکن اور میسر تھا۔لیکن اس میں وہی سرخرو ہوا جس کے لئے سرخروئی مقدر تھی اور اس میں خدا تعالیٰ نے صاف اشارہ کر دیا کہ مہر علی در حقیقت اس میدان کا مرد نہ کبھی تھا اور اب بھی نہیں ہے اور وہ اس وقت بھی ذلیل اور شرمندہ ہوتا جیسے اب کافی وقت اور موقعہ ملنے پر شرمندہ ہوا ہے۔یہ ہوا کیا کہ اتنی تھوڑی یا کافی میعاد میں اعجاز المسیح نمودار ہو گیا اور مہر علی شاہ اور اس کے امثال مبہوت اور ساکت رہ گئے خود انہوں نے توجہ نہیں کی۔دانستہ انہوں نے ایک شخص کو حقیر سمجھ کر مقابلہ کی پرواہ نہیں کی غلط اور بیہودہ بات ہے۔کیا نصاری اور کفار اب تک یہ نہیں کہتے کہ عرب کے فُصَحَا اور بُلَغَا نے فَأْتُوا بِسُورَةٍ لے کی صدا کو بے التفاتی سے دیکھا اور مدعی کو حقیر دیکھ کر معارضہ کرنے سے پہلو تہی کی۔آج کل کے مسلمانی کے مدعیوں کے عذر میں اور نصاری کی اس وکالت کفار میں کیا فرق ہے؟ خدا کے لئے کوئی تو بتا دے کیا یہ شخص حقیر ہے جس نے ایک جہان میں غلغلہ ڈال رکھا ہے اور دوست اور دشمن میں ایک حرکت پیدا کر رکھی ہے اور جس کی تردید وانکار میں تمہارے پیشواؤں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں اور جس کی راہ سے لوگوں کو روکنے کیلئے تم ہر وقت جانیں کھپاتے اور کڑھتے رہتے ہو اور یہ حقیر آدمی ہے جس کے لئے تم نے تکفیر کا فتویٰ تیار کیا اور تمہاری جانیں اس کے سلسلہ کی ترقی سے تب و تاب میں ہیں ! کبھی ممکن ہوا ہے کہ کسی نے مجنوں کی حرکات اور حقیر آدمی کی بات کی طرف توجہ کی ہو! تم بے شک آپ اپنے اوپر گواہ ہو اور تمہاری ا یونس : ٣٩