حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 121
حیات احمد ۱۲۱ جلد پنجم حصہ دوم یہاں تشریف لا نا مفید نہیں اور ہمارے پاس کوئی سند اس بات کے باور کر لینے کے لئے موجود نہیں کہ حافظ صاحب مذکور کا ساختہ پر داختہ جناب کو مل کر دہ ذات خود منظور و قبول ہے اور نہ ہی اس میں صراحت سے لکھا ہے کہ ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء والے اشتہار کے پیش کردہ طرز مباحثہ کے لئے آپ تیار ہیں اس لئے ان کی تحریر قابل التفات نہیں سمجھی گئی اور اس لئے اس وقت تک انتظار کرنے کے بعد آخر ہم خاکساروں نے اس بات کو مناسب سمجھا ہے کہ جناب کی خدمت میں ادب سے گزارش کریں کہ اگر در حقیقت جناب دین اسلام پر نظر کر کے اس بڑے فتنے کو مٹانے کے لئے ہی لاہور میں تشریف لائے ہیں تو فی الفور اپنے دستخط خاص سے اس مضمون کی ایک تحریر شائع کر دیں کہ ہم میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ساتھ اُن کے ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ ء والے اشتہار کے مطابق بلا کم و کاست شرائط سے مباحثہ تفسیر نویسی کرنے کے لئے تیار ہیں ایسی تحریر پر کم از کم لاہور کے چار مشہور رئیسوں اور مولویوں کے شہاد تا دستخط کرا دیں اور اس میں کوئی پیچیدہ عبارت یا ذُو معنيين الفاظ تحریر نہ فرمائیں۔صاف اور کھلے لفظوں میں لکھیں کہ اس طرز کے مطابق جس کو ۲۰ / جولائی ۱۹۰۰ ء کے اشتہار میں میرزا صاحب نے شائع کر دیا ہے۔ان کے ساتھ مباحثہ تفسیر کرنے کو تیار ہیں۔ہم یہ عرض بادب کرتے ہیں کہ للہ آپ اس فیصلہ کے لئے آمادہ ہوں اور کسی طرح گریز کا خیال نہ فرمائیں اور ہم ہزار بار خدا کی قسم دے کر عرض کرتے ہیں کہ اس بڑے تنازعہ کو مٹانے کے لئے اس پیش کردہ مباحثہ تفسیر نویسی کو نہا ہیں تا کہ حق و باطل میں فیصلہ ہو کر اصلاح وامن پیدا ہو۔کیونکہ اگر آپ نے اس میں پیش و پس کیا یا پیچیدہ طور پر جواب دیا یا سکوت اختیار کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ آپ کی نیت میں منشہائے احقاق حق نہیں آپ صرف مخلوق کو دھوکہ دینا اور اسلام میں فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔ہم یقین کرتے ہیں کہ فی الواقعہ آپ کو حق سے انس اور محبت ہے تو ضرور اس پر