حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 82 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 82

حیات احمد ۸۲ جلد پنجم حصہ اول ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور جب تمام مسلمان حاضر ہوئے تو ہمارے دوست مکرم مولوی عبدالکریم صاحب نے نماز عید پڑھائی اور نماز کی آخری رکعت کے بعد طاعون کے دفع ہونے کے لئے بہت سی دعائیں کیں اور حاضرین نے نہایت رقت اور خشوع اور خضوع سے آمین کہا اور یہ دعائیں نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ تمام بنی نوع کے لئے یہاں تک کہ دوسرے جانداروں کو بھی اس میں شامل کیا اس وقت عجیب دلوں کی کیفیت تھی کہ اس عام ہمدردی کی دعاؤں پر نظر کر کے دین اسلام کی عظمت اپنا ایک نورانی چہرہ دکھا رہی تھی کہ کس طرح خدا نے مسلمانوں کو عام ہمدردی کی تعلیم دی ہے اور یہ ایک عجیب بات تھی کہ سورہ فاتحہ جو اصل اور مبدء نماز کا ہے اس میں طاعون سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے کیوں کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کے یہی معنے بیان کئے گئے ہیں کہ جن لوگوں پر ایک زمانہ میں غضب الہی نازل ہوا تھا وہ اکثر یہی تھا کہ ان میں کئی دفعہ طاعون پھوٹی تھی۔غرض اس طمع پر نہایت دردناک دعاؤں کے ساتھ نماز ختم ہوئی پھر اس تقریر کا وقت آیا جو نماز پڑھنے کے بعد کھڑے ہو کر کی جاتی ہے جیسا کہ سنت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔اس تقریر کے لئے ہمارے پیر ومرشد جناب حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کھڑے ہوئے آپ نے ایک لمبی تقریر کے پیرا یہ میں طاعون کے بارے میں ہماری گورنمنٹ محسنہ کے مقاصد کی بڑی تائید کی اور فرمایا کہ ہمیں ان لوگوں کی جہالت اور نادانی پر بڑا ہی افسوس ہے جو گورنمنٹ کی تجاویز اور ہدایات پیش کردہ کو شکریہ کے ساتھ قبول نہیں کرتے جہاں تک الفاظ ملتے تھے اس بات پر بہت ہی زور دیا کہ گورنمنٹ انگریز یہ کی ہدایات کی بدل و جان اشاعت کرنی چاہیے اور فرمایا کہ یہ اطاعت صرف اپنے طور سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہم پر اس بادشاہ کی اطاعت فرض کرتا ہے جس کے ہم زیر سایہ ہوں جیسا کہ وہ فرماتا ہے أطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم لے اور اس آیت کی یہ تفسیر فرمائی کہ جو سلطنت ہمیں ہمارے دین کے موافق کوئی حکم کرتی ہے جیسا کہ سلطنت برطانیہ وہ اسلامی سلطنت کے رنگ میں اور مِنْكُمُ کے لفظ میں داخل ہیں۔پھر فرمایا ”جو کچھ گورنمنٹ نے اس بارے میں ہدایات شائع کی ہیں ان میں رعایا کی ایک ایسی سچی خیر خواہی ہے جو مہر مادری سے مشابہ النساء :٦٠