حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 81
حیات احمد ΔΙ جلد پنجم حصہ اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جلسہ طاعون کی کارروائی اگر چہ عید پیر کے دن ہوئی مگر اس جلسہ کے لئے اکثر اصحاب ہفتہ کے دن آگئے تھے اور اتوار کے دن تیسرے پہر تو ایک گروہ کثیر ہو گیا تھا اور پشاور سے لے کر لدھیانہ تک کے اکثر اصحاب جمع ہو گئے تھے اور باعث شدت گرمی اور کمی گنجائش وقت بہت سے احباب جو دور کے رہنے والے اور تعلقات ملازمت سرکاری رکھتے تھے وہ اس جلسہ میں شامل نہیں ہو سکے تاہم معزز مہمانوں کی ایک جماعت کثیر ہوگئی تھی جو دو سو آدمی کے قریب تھے۔اوّل اتوار کے دن ہمارے مکرم معظم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے مجمع حاضرین میں نبوت کے مسئلہ پر نہایت مؤثر تقریر کی اور دلائل عقلیہ حکمیہ سے ثابت کیا کہ ایسے انسانوں کو اپنے نفوس کی تکمیل کے لئے نبوت اور الہام اور وحی کی ضرورت رہی ہے اور صرف معز ز زندگی کے انسان جن کے ساتھ خدا کی تائید نہیں تھی اس ضرورت کو محض اپنی خشک لفاظی سے پورا نہ کر سکے اور اس یقین تک لوگوں کو پہنچانہ سکے جو خیالات میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر کے اسی عالم میں حقیقی نجات کے دروازے انسان پر کھولتا ہے اور قدیم تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان کی سفلی آلائشوں سے پاک ہونے کے لئے ضرور خدا کی وحی اور آسمانی نشان کی ضرورت ہے پھر پیر کے دن عید کی نماز پر ایک بڑا مجمع مسلمانوں کا ہوا جن میں وہ تمام معزز مہمان تھے جو دور دور سے اسی جلسہ کے لئے قادیاں میں آئے تھے جن کے نام اس پرچے کے اخیر میں درج کئے گئے ہیں آج کے دن یعنی عید کو یہ کارروائی ہوئی کہ اول یہ تجویز قرار پائی کہ تمام لوگ نماز کے لئے اس درخت بڑ کے سایہ کے نیچے جمع ہوں گے جو قادیان سے مشرق کی طرف دروازہ قصبہ سے قریباً ستر قدم کے فاصلہ پر ہے یہ ایک بڑا سایہ دار درخت ہے جس کے خوشنما سایہ کے نیچے ہزار آدمی کے قریب بیٹھ سکتا ہے اور پانچو آدمی نماز پڑھ سکتا ہے۔غرض ۹ بجے سے پہلے ہی اس درخت کے نیچے تمام لوگ جمع ہو گئے اور باوجود اس قدر اجتماع اور انبوہ کے جس سے ایک وسیع میدان جو زیر سایہ درخت مذکورہ تھا پر ہو گیا تھا پھر بھی باعث راحت بخش سایہ کے ہر ایک شخص بڑے آرام اور خوشی کے