حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 70
حیات احمد جلد پنجم حصہ اوّل جلسہ طاعون کی روئداد راقم الحروف کو از راہ کرم حضرت اقدس نے اس جلسہ کی روئداد قلم بند کرنے کا حکم دیا اور اسے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ مفصل روئداد الانذار نام سے ایک رسالہ کی شکل میں شائع کر سکا میں اس جگہ صرف روئیداد جلسہ درج کروں گا۔روئداد یکم مئی ۱۸۹۸ء گرمی کی شدت اور موسم کی حدت الگ اور طاعون کا اندیشہ اور خوف جدا یہ خیال پیدا کرتا تھا کہ اس جلسہ پر بہت کم احباب آسکیں گے مگر باوجود کہ اس قسم کے اثرات کے علاوہ اشتہار بھی بہت بقیہ حاشیہ۔دوسرے بھی ان ہدایتوں کی پیروی کریں اور بدبخت احمقوں کی طرح فتنہ انگیز نہ بنیں۔افسوس ہمارے ملک میں یہ سخت جہالت ہے کہ لوگ مخالفت کی طرف جلد مائل ہو جاتے ہیں مثلاً اب گورنمنٹ انگریزی کی طرف سے یہ ہدا یتیں شائع ہوئیں کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو وہ گھر خالی کر دیا جائے اس پر بعض جاہلوں نے ناراضگی ظاہر کی۔لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے یہ حکم ہوتا کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو وہ لوگ ہرگز اس گھر کو خالی نہ کریں اور اُسی میں رہیں تب بھی نادان لوگ اس حکم کی مخالفت کرتے اور دو تین واردات کے بعد اُس گھر سے نکلنا شروع کر دیتے۔سچ تو یہ ہے کہ نادان انسان کسی پہلو سے خوش نہیں ہوتا۔پس گورنمنٹ کو چاہیے کہ نادانوں کے بیج واویلا سے اپنی کچی خیر خواہ رعایا کو ہرگز نہ چھوڑے کہ یہ لوگ ان بچوں کا حکم رکھتے ہیں کہ جو اپنی ماں کی کسی کارروائی کو پسند نہیں کر سکتے۔ہاں ایسی ہمدردی کے موقعہ پر نہایت درجہ کی ضرورت ہے کہ ایسی حکمت عملی ہو جو ڑ عب بھی ہو اور نرمی بھی ہو اور نیز اس ملک میں رسوم پردہ داری کی غایت درجہ رعایت چاہیے اور اس مصیبت میں طاعون زدہ لوگوں اور ان کے عزیزوں کو جو مشکلات اوقات بسری کے پیش آئیں شفقت پدری کی طرح حتی الوسع ان مشکلات کو آسان کرنا چاہیے بہتر ہے کہ اس وقت سب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تا انجام بخیر ہو۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۱۳ ۲۱۴ طبع بار دوم ۲۲ را پریل ۱۸۹۸ء)