حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 66
حیات احمد ۶۶ جلد پنجم حصہ اول مثلاً حال میں جو اسی ۱۸۹۸ء میں پادری صاحبوں کی طرف سے مشن پریس گوجرانوالہ میں اسلام کے رد میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام یہ رکھا ہے امہات المؤمنین یعنی در بارِ مصطفائی کے اسرار وہ ایک تازہ زخم مسلمانوں کے دلوں کو پہنچانے والی ہے اور یہ نام ہی کافی ثبوت اس تازہ زخم کا ہے اور اس میں اشتعال دہی کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور نہایت دل آزار کلمے استعمال کئے ہیں مثلاً ہم تو یہی کہتے ہیں کہ محمد صاحب نے خدا پر بہتان باندھا۔اور پھر دل دکھانے کے لئے ہزار کاپی اس کتاب کی مسلمانوں کی طرف مفت روانہ کی گئی ہے۔چنانچہ آج ہی کی تاریخ جو ۱۵ رفروری ۱۸۹۸ء ہے ایک جلد مجھ کو بھی بھیج دی ہے حالانکہ میں نے طلب نہیں کی اور اس کتاب میں یعنی صفحہ ۵ میں لکھ بھی دیا ہے کہ اس کتاب کی ایک ہزار جلدیں مفت بصیغہ ڈاک ایک ہزار مسلمانوں کی نذر کرتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ جب ایک ہزار مسلمانوں کو خواہ نخواہ یہ کتاب بھیج کر ان کا دل دکھایا گیا تو کس قدر نقص امن کا اندیشہ ہوسکتا ہے اور یہ پہلی تحریر ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی پادری صاحبوں نے بار بار بہت سی فتنہ انگیز تحریریں شائع کی ہیں اور بے خبر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے وہ کتا بیں اکثر مسلمانوں میں تقسیم کی ہیں جن کا ایک ذخیرہ میرے پاس موجود ہے۔“ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۸۸ تا ۱۹۴ طبیع بار دوم ) جماعت احمد یہ کسی گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں جماعت احمد یہ اپنے مستقل اصول کے ماتحت کہ وہ جس حکومت کے ماتحت ہو اس کی کامل فرماں بردار اور وفا دار ہے یہ اصول آغاز سلسلہ سے قائم کیا گیا اس لئے کہ اس سلسلہ کو تو آفاق میں پھیلنا تھا وہ ساری دنیا اور تمام اقوام کے لئے قائم ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ مختلف ممالک اور مختلف اقوام کی حکومتیں جدا جدا ہوں گی اس لئے ایک ایسا دستوری اصل جماعت کو دیا گیا جو کسی تبدیلی کے بغیر ہر