حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 480
حیات احمد ۴۸۰ جلد پنجم حصہ اوّل تھے کہ یہ کوئی سازش کے لئے سیاسی جماعت بن رہی ہے۔اور بٹالہ میں ان دنوں پولیس کے افسر بھی سخت معاند و مخالف تھے اور طرح طرح سے تکلیف دیتے رہتے تھے اور قادیان کے اندر بھی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین وغیرہ اور ان کی انگیخت سے قادیان کے ہندو اور سکھ اور غیر احمدی سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے اور قادیان میں احمدیوں کو سخت ذلت اور تکلیف سے رہنا پڑتا تھا اور ان دنوں میں قادیان میں احمدیوں کی تعداد بھی معمولی تھی اور احمدی سوائے حضرت کے خاندان کے قریباً سب ایسے تھے جو باہر سے دین کی خاطر ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے یا مہمان ہوتے تھے۔حضرت صاحب نے یہ حالات دیکھے اور جماعت کی تکلیف کا مشاہدہ کیا تو جماعت کے آدمیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور کہا کہ اب یہاں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہم نے تو کام کرنا ہے۔یہاں نہیں تو کہیں اور سہی۔اور ہجرت بھی انبیاء کی سنت ہے۔پس میرا ارادہ ہے کہ کہیں باہر چلے جائیں۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس پر حضرت خلیفہ اول ( یعنی مولانا نورالدین صاحب۔ناقل ) نے عرض کیا کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں۔وہاں میرے مکانات حاضر ہیں اور کسی طرح کی تکلیف نہیں مولوی عبدالکریم صاحب نے سیالکوٹ کی دعوت دی۔شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا کہ لاہور میرے پاس تشریف لے چلیں میرے دل میں بھی بار بار اٹھتا تھا کہ میں اپنا مکان پیش کر دوں مگر شرم سے رک جاتا تھا آخر میں نے بھی کہا کہ حضور میرے گاؤں میں تشریف لے چلیں۔اور وہ سالم گاؤں ہمارا ہے اور کسی کا دخل نہیں اور اپنے مکان موجود ہیں۔اور وہ ایک ایسی جگہ ہے کہ حکام کا بھی کم دخل ہے اور زمیندارہ رنگ میں گویا حکومت بھی اپنی ہے۔حضرت صاحب نے کہا وہاں ضروریات مل جاتی ہیں۔میں نے کہا۔رسد وغیرہ سب گھر کی اپنی کافی ہوتی ہے۔اور ویسے وہاں سے ایک قصبہ تھوڑے فاصلہ پر ہے جہاں سے ہر قسم کی ضروریات مل سکتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا! اچھا