حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 479 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 479

حیات احمد ۴۷۹ جلد پنجم حصہ اول صاحب نے تاکید کی کہ کوئی سخت لفظ استعمال نہ کیا جاوے۔چودھری صاحب کہتے ہیں کہ ہم گئے تو آگے دونوں مرزے مجلس لگائے بیٹھے تھے اور حقے کا دور چل رہا تھا۔ہم نے جا کر حضرت صاحب کا پیغام دیا اور بڑی نرمی سے بات شروع کی لیکن مرزا امام الدین نے سنتے ہی غصہ سے کہا وہ ( یعنی حضرت صاحب) خود کیوں نہیں آیا اور میں تم لوگوں کو کیا جانتا ہوں۔پھر طعن سے کہا کہ جب سے آسمانوں سے وحی آنی شروع ہوئی ہے اس وقت سے اسے خبر نہیں کیا ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم لوگ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔پھر حضرت صاحب نے ہمارے ساتھ اور بعض مہمانوں کو ملا دیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جاؤ اور اس سے جا کر ساری حالت بیان کرو اور کہو کہ ہم لوگ دور دراز سے دین کی خاطر یہاں آتے ہیں اور یہ ایک ایسا فعل کیا جارہا ہے جس سے ہم کو بہت تکلیف ہوگی کیونکہ مسجد کا راستہ بند ہو جائے گا۔ان دنوں میں قادیان کے قریب ایک گاؤں میں کوئی سخت واردات ہوگئی تھی اور ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس سب وہاں آئے ہوئے تھے۔چنانچہ ہم لوگ وہاں گئے اور ذرا دور یکے ٹھہرا کر آگے بڑھے۔ڈپٹی کمشنر اس وقت باہر میدان میں کپتان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں اور اپنا حال بیان کرنا شروع کیا۔مگر ڈپٹی کمشنر نے نہایت غصہ کے لہجہ میں کہا کہ تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو۔میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں اب جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائے گا کہ کس طرح ایسی جماعت بنایا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ہم ناچار وہاں سے بھی ناکام واپس آگئے اور حضرت صاحب کو سارا ماجرا سنایا۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ان دنوں میں مخالفت کا سخت زور تھا اور انگریز حکام بھی جماعت پر بہت بدظن تھے اور سمجھتے