حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 474
حیات احمد ۴۷۴ جلد پنجم حصہ اول حیض کی طرح ناپاک نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح تو بھی انسان کی فطرتی ناپاکی سے جو لازم بشریت ہے اور خون حیض سے مشابہ ہے ترقی کر گیا ہے۔اب اس پاک لڑکے میں خونِ حیض کی تلاش کرنا حمق ہے وہ تو خدا کے ہاتھ سے غلام زکی بن گیا اور اس کے لئے بمنزلہ اولاد کے ہو گیا۔اور خدا تیرا متولی اور تیرا پرورندہ ہے اس لئے خاص طور پر پدری مشابہت درمیان ہے۔جس آگ کو اس کتاب عصائے موسیٰ سے بھڑ کا نا چاہا ہے ہم نے اُس کو بجھا دیا ہے خدا پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے، جو نیک کاموں کو پوری خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور تقویٰ کے باریک پہلوؤں کا لحاظ رکھتے ہیں۔( اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۹ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۵۲۴۵۱ حاشیہ الحکم جلد نمبر ۴۴ پر چه ۱۰ار دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۶) ۸ / دسمبر ۱۹۰۰ء کی صبح کو فرمایا کہ کل رات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور اس شدت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیونکر بسر ہوگی۔آخر ذراسی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا كُونِی بَرْدًا وَّ سَلَامًا اور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ معا درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہو ہی نہیں تھا۔“ لے L۔الحکم جلد نمبر ۴۴ پر چهار دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۶) (۱) میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قا در خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری ثابت کر کے آپ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے اس کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو دسمبر ۱۹۰۰ ء کے روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا۔بر مقام فلک شده يارب گر امیدے دہم مدار عجب لے اس پر آپ نے فرمایا کہ ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علی وجہ البصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو تم دے دو۔بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معا کا فر ہو جاؤں“۔الحکم میں اس کی تاریخ ۱۲ دسمبر وقت شب لکھی ہے۔( خاکسار مرتب)