حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 456 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 456

حیات احمد ۴۵۶ جلد پنجم حصہ اول ۱۹۰۰ء کے الہامات وكشوف 1900ء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کلام آپ پر نازل ہوا اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے بعض الہامات واقعات کے سلسلہ میں بیان ہو چکے ہیں اس لئے ان کو یہاں درج نہیں کیا گیا۔۵/جنوری ۱۹۰۰ء ” میرے چچازاد بھائیوں میں سے امام الدین نام ایک سخت مخالف تھا اُس نے یہ ایک فتنہ برپا کیا کہ ہمارے گھر کے آگے دیوار کھینچ دی اور ایسے موقعہ پر دیوار کھینچی کہ مسجد میں آنے جانے کا راستہ رک گیا اور جو مہمان میری نشست کی جگہ پر میرے پاس آتے تھے یا مسجد میں آتے تھے وہ بھی آنے سے رک گئے اور مجھے اور میری جماعت کو سخت تکلیف پہنچی گویا ہم محاصرہ میں آگئے۔ناچار دیوانی میں منشی خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ جج کے محکمہ میں نالش کی گئی جب نالش ہو چکی تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ نا قابل فتح ہے اور اس میں یہ مشکلات ہیں کہ جس زمین پر دیوار کھینچی گئی ہے اس کی نسبت پہلے کسی وقت مثل کے رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مدعا علیہ یعنی امام الدین قدیم سے اس کا قابض ہے اور یہ زمین دراصل کسی اور شریک کی تھی جس کا نام غلام جیلانی تھا اور اس کے قبضہ میں سے نکل گئی تھی تب اس نے امام الدین کو اس زمین کا قابض خیال کر کے گورداسپور میں بصیغہ دیوانی نالش کی تھی اور بوجہ ثبوت مخالفانہ قبضہ کے وہ نالش خارج ہوگئی تھی۔تب سے امام الدین کا اس پر قبضہ چلا آتا ہے۔۔۔اس سخت مشکل کو دیکھ کر ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین نے ہمیں یہ بھی صلاح دی تھی کہ بہتر ہوگا کہ ہمیں اس مقدمہ میں صلح کی جائے یعنی امام الدین کو بطور خود کچھ روپیہ دے کر راضی حاشیہ۔اس دیوار کے متعلق تفصیلی تذکرہ آئندہ ہو گا اس لئے کہ یہ مقدمہ ۱۹۰۱ء تک جاری رہا اور آخر ہماری کامیابی بشارت ربانی کے موافق ہوئی۔(عرفانی)