حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 399
حیات احمد ۳۹۹ جلد پنجم حصہ اول کرتے تھے ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ دس دن کے اندر وہ الہامات شائع کر دیں۔مگر آپ نے ایک سال تک انتظار کیا اور جب منشی الہی بخش صاحب کو ان الہامات کی اشاعت کی جرأت نہ ہوئی تو آپ نے ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء کو ان پر اتمام حجت کے لئے ایک اشتہار معیارالاخیار کے نام سے شائع کیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اشتہار معیار الاخیار اس اشتہار کومنشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ اور حافظ محمد یوسف صاحب اور اولاد مولوی عبداللہ صاحب غزنوی غور سے پڑھیں اور منشی الہی بخش صاحب جواب دیں کہ کیا ان کا الہام سچا ہے یا ان کے مرشد مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کا۔إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ فَطُوبَى لِمَنْ عَرَفَنِي أَوْ عَرَفَ مَنْ عَرَفَنِي اے لوگو میری نسبت جلدی مت کرو اور یقیناً جانو کہ میں خدا کی طرف سے ہوں میں اُسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔سمجھو اور سوچو کہ دنیا میں کس قدر مفتری ہوئے اور ان کا انجام کیا ہوا کیا وہ ذلت کے ساتھ بہت جلد ہلاک نہ کئے گئے ؟ پس اگر یہ کاروبار بھی انسانی افترا ہوتا تو کب کا تباہ ہو جاتا کیا کسی ایسے مفتری کا نام بطور نظیر پیش کر سکتے ہو جس کو افترا اور دعوئی وحی اللہ کے بعد میری طرح ایک زمانہ دراز تک مہلت دی گئی ہو وہ مہلت جس میں سے آج تک بقدر زمانہ وحی محمدی علیہ السلام یعنی قریباً چوبیس برس گزر گئے۔اور آئندہ معلوم نہیں کہ ابھی کس قدر ہیں۔اگر پیش کر سکتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ ایسے مفتری کا نام لو اور اس شخص کی مدت افتراء کا جس قدر البقرة: ۲۵