حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 386
حیات احمد ۳۸۶ جلد پنجم حصہ اول میں آیا ہے۔حضرت اقدس (علیہ الصلوۃ والسلام) کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے اس پر ایک اشتہار بشپ صاحب لاہور سے ایک کچے فیصلہ کی درخواست“ کے عنوان سے شائع کیا۔(الحکم مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۰ ء صفحه ۲۱) ایک اعجازی مضمون اور مولوی ثناء اللہ کا طرز عمل بقیہ حاشیہ۔ہی بعض کے نزدیک اجنبی عورت کو شہوت کی نظر سے دیکھنا بھی زنا ہے مگر بعض کا یہ مذہب ہے کہ ایک خاوند والی عورت بیگانہ مرد سے بے شک اس صورت میں ہمبستر ہو جائے جبکہ کسی وجہ سے اولا د ہونے سے نومیدی ہو اور یہ کام نہ صرف جائز بلکہ بڑئے ثواب کا موجب ہے اور اختیار ہے کہ دس یا گیارہ بچوں کے پیدا ہونے تک ایسی عورت بریگا نہ مرد سے بدکاری میں مشغول رہے۔ایسا ہی ایک کے نزدیک جوں یا پٹو مارنا بھی حرام ہے اور دوسرا تمام جانوروں کو سبز تر کاریوں کی طرح سمجھتا ہے۔اور ایک کے مذہب میں سور کا چھونا بھی انسان کو نا پاک کر دیتا ہے اور دوسرے کے مذہب میں تمام سفید اور سیاہ سو کر بہت عمدہ غذا ہیں۔اب اس سے ظاہر ہے کہ گناہ کے مسئلہ میں دنیا کو گلگی اتفاق نہیں ہے۔عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح خدائی کا دعوی کر کے پھر بھی اول درجہ کے معصوم ہیں مگر مسلمانوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی بھی گناہ نہیں کہ انسان اپنے تئیں یا کسی اور کو خدا کے برابر ٹھہرا دے۔غرض یہ طریق مختلف فرقوں کے لئے ہر گز حق شناسی کا معیار نہیں ہو سکتا جو بشپ صاحب نے اختیار کیا ہے۔ہاں یہ طریق نہایت عمدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مقدس محمد مصطفی علیہ کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور تقدسی اور برکاتی اور تاثیراتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم موازنہ اور مقابلہ کیا جائے۔یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں۔کیونکہ جب ہم کلام کلی کے طور پر تمام طرق فضیلت کو مہِ نظر رکھ کر ایک نبی کے وجوہ فضائل بیان کریں گے تو ہم پر یہ طریق بھی کھلا ہوگا کہ اُسی تقریب پر ہم اس نبی کی پاک باطنی اور تقدس اور طہارت اور معصومیت کے وجوہ بھی جس قدر ہمارے پاس ہوں بیان کر دیں۔اور چونکہ اس قسم کا بیان صرف ایک جزوی بیان نہیں ہے بلکہ بہت سی باتوں اور شاخوں پر مشتمل ہے اس لئے پبلک کے لئے آسانی ہوگی کہ اس تمام مجموعہ کو زیر نظر رکھ کر اس حقیقت تک پہنچ جائیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے در حقیقت افضل اور اعلیٰ شان کسی نبی کو حاصل ہے اور گو ہر ایک شخص فضائل کو بھی اپنے مذاق پر ہی قرار دیتا ہے مگر چونکہ یہ انسانی فضائل کا ایک کافی مجموعہ ہوگا اس لئے اس طریق سے افضل اور اعلیٰ کے جانچنے میں وہ مشکلات نہیں پڑیں گی جو صرف معصومیت کی بحث میں پڑتی ہیں بلکہ ہر ایک مذاق کے انسان کے لئے اس مقابلہ اور موازنہ کے وقت ضرور ایک ایسا قدر مشترک حاصل ہو جائے گا جس