حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 385 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 385

حیات احمد ۳۸۵ جلد پنجم حصہ اول صاحب نے مسیح کے وہ الفاظ انجیل سے پیش کئے یہ انہوں نے ایک ارادتمند کے جواب میں فرمائے جس نے آپ کو نیک کہا تھا یعنی مسیح نے کہا کہ ”مجھے نیک مت کہو“۔اس کے علاوہ اور بہت سے دلائل انجیل سے دیئے اور پھر قرآن کریم سے رسول اللہ ﷺ کی اعلی درجہ کی پاکبازی ، طہارت اور مسلم عصمت پر پر زور دلائل دیئے اور استغفار کی حقیقت اور ذنب کے معنوں پر مخصوص تقریر فرمائی اور بتلایا کہ ذنب، خطا، جُرم، جُناح وغیرہ سب الفاظ کا ترجمہ گناہ کیا جاتا ہے حالانکہ یہ محض غلط ہے اور آخر میں بتلایا کہ قرآن کریم میں صرف ہمارے نبی کریم عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالتَّسْلِیم ہی ایک نبی ہیں جن کی عصمت پر خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں زور دیا ہے اور فرمایا ہے وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اور قرآن کریم نے تمام انبیاء علیہم السلام کو جرم اور جناح سے محفوظ ثابت کیا ہے کوئی لفظ ان کے لئے مستعمل نہیں ہوا۔مفتی صاحب کی تقریر نے بشپ صاحب کو لا جواب کر دیا اور اس طرح پر اس جلسہ میں اسلام کی فتح ہوئی جو اس مامور کے ایک خادم کے نام لکھی گئی جو مسیح موعود کے نام سے اس دنیا - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بشپ صاحب لاہور سے ایک سچے فیصلہ کی درخواست میں نے سنا ہے کہ بشپ صاحب لاہور نے مسلمانوں کو اس بات کی دعوت کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام کی مقابل پر اپنے نبی اللہ کا معصوم ہونا ثابت کر کے دکھلاویں۔میرے نزدیک بشپ صاحب موصوف کا یہ بہت عمدہ ارادہ ہے کہ وہ اس بات کا تصفیہ چاہتے ہیں کہ ان دونوں بزرگ نبیوں میں سے ایسا نبی کون ہے جس کی زندگی پاک اور مقدس ہو لیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ اس سے اُن کی کیا غرض ہے کہ کسی نبی کا معصوم ہونا ثابت کیا جائے یعنی پبلک کو یہ دکھلایا جائے کہ اس نبی سے اپنی عمر میں کوئی گناہ صادر نہیں ہوا۔میرے نزدیک یہ ایسا طریق بحث ہے جس سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہوگا کیوں کہ تمام قوموں کا اس پر اتفاق نہیں ہے کہ فلاں قول اور فعل گناہ میں داخل ہے اور فلاں گفتار اور کردار گناہ میں داخل نہیں ہے۔مثلاً بعض فرقے شراب پینا سخت گناہ سمجھتے ہیں اور بعض کے عقیدہ کے موافق جب تک روٹی تو ڑ کر شراب میں نہ ڈالی جائے اور ایک نو مُرید مع بزرگانِ دین کے اس روٹی کو نہ کھاوے اور اس شراب کو نہ پیوے تب تک دیندار ہونے کی پوری سند حاصل نہیں ہوسکتی۔ایسا