حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 354
حیات احمد ۳۵۴ جلد پنجم حصہ اوّل ۱۸۹۹ء میں سلسلہ کی ترقیات الہی سلسلوں کی ترقی کی رفتار اولاً آہستہ ہوتی ہے اور پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًال کا نظارہ نظر آتا ہے اور ربانی سلسلہ اکناف عالم میں ایک قوت اور شوکت کے ساتھ پھیلنے لگتا ہے اور باوجود مخالفت کے ایک طوفان کے وہ ترقی کرتا ہے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ وحی ہوئی تھی۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔( تذکرہ صفحہ ۲۳۸ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) ترقی کی اس رفتار کو تاریخی حیثیت دینے کے لئے ۱۸۹۹ء پر میں نے ایک ریویو لکھا تھا جس سے ظاہر ہوگا کہ ہر رنگ میں سلسلہ نے ترقی کی باوجود یہ کہ یہ سال خطرناک مخالف سازشوں اور شرارتوں کا تھا دشمنوں نے قتل کے منصوبے کئے مقدمات میں الجھایا مگر ہر پہلو سے آپ کا قدم آگے ہی بڑھا قتل کے منصوبے کرنے والے ناکام ہو گئے اور مقدمات کرنے والے اپنے منصوبوں میں ذلیل اور بالآخر عذاب الہی میں مبتلا ہو گئے۔۱۸۹۹ء میں خدا تعالیٰ کے برگزیدہ مشن نے جو اس کے پاکباز اور راست باز امام حضرت اقدس جناب سید نا مرزا غلام احمد صیح موعود مهدی مسعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم ہوا کیا کیا تر قیاں کیں۔اور اس امر کے اظہار کی اس لئے ضرورت ہے کہ تا حق کے دشمنوں اور بطالت کے فرزندوں کو معلوم ہو کہ یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کی لگائی ہوئی شاخ شمر دار ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ظالم اور مفتری کو مہلت نہیں دیتا مگر راست باز اور نور ہر آن ایک نئی ترقی پاتا ہے اور کامیابیاں حاصل کرتا ہے اسے ہر لحظہ آواز آتی ہے۔وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْاُولی اور ان تمام ترقیوں کو مختلف عنوان میں انشاء اللہ تعالیٰ بتلائیں گے۔الفتح : ٣