حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 342 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 342

حیات احمد ۳۴۲ جلد پنجم حصہ اول اس میں پر کاش ہو ہم جو بار بار اشتہار دیتے ہیں اور لوگوں کو تجربہ کیلئے بلاتے ہیں اور بعض لوگ ہم کو دکاندار کہتے ہیں کوئی کچھ بولتا ہے کوئی کچھ غرض ان بھانت بھانت کی بولیوں کوسن کر جو ہر ملک میں جو اس دنیا پر آباد ہے یورپ امریکہ وغیرہ میں اشتہار دیتے ہیں اس کی غرض کیا ہے؟ ہماری غرض بجز اس کے اور کچھ نہیں تا کہ لوگوں کو اس خدا کی طرف رہنمائی کریں۔جسے ہم نے خود دیکھا ہے سنی سنائی بات اور قصہ کے رنگ میں ہم خدا کو دکھانا نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی ذات اور اپنے وجود کو پیش کر کے دنیا کو خدا تعالیٰ کا وجود منوانا چاہتے ہیں یہ ایک سیدھی بات ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جس قدر کوئی قدم اٹھاتا ہے خدا تعالیٰ اس سے زیادہ سرعت اور تیزی کے ساتھ اس کی طرف آتا ہے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک معزز آدمی کا منظور نظر عزیز اور واجب التعظیم سمجھا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والا اپنے اندر ان نشانات میں سے کچھ بھی حصہ نہ لے گا جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور بے انتہا طاقتوں کا نمونہ ہوں۔یہ یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی تقاضا نہیں کرتی کہ اس کو ایسی حالت میں چھوڑے کہ وہ ذلیل ہو کر پیسا جاوے نہیں بلکہ جیسے وہ خود وحدہ لا شریک ہے وہ اپنے اس بندہ کو بھی ایک فرد اور وَحْدَهُ لَا شَرِیک بنا دیتا ہے۔دنیا کے تختہ پر کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کرتا ہر طرف سے اس پر حملے ہوتے ہیں اور ہر حملہ کرنے والا اس کی طاقت کے اندازہ سے بے خبر ہو کر جانتا ہے کہ میں اسے تباہ کر ڈالوں گا لیکن آخر اس کو معلوم ہو جاتا ہے اس کا بچ نکلنا انسانی طاقت سے باہرکسی قوت کا کام ہے کیوں کہ اگر اسے پہلے سے یہ علم ہوتا تو وہ حملہ بھی نہ کرتا پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور ایک تقرب حاصل کرتے ہیں اور دنیا میں اس کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتے ہیں بظاہر اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ہر ایک مخالف اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میرے مقابلہ میں بچ نہیں سکتا کیونکہ ہر قسم کی تدبیر اور کوشش کے نتائج اسے یہیں تک پہنچاتے ہیں لیکن جب وہ اس زد میں سے ایک عزت اور احترام کے ساتھ اور سلامتی سے نکلتا تھا تو ایک دم کے لئے تو اسے حیران ہونا پڑتا ہے کہ اگر انسانی طاقت کا ہی کام تھا تو اس کا بچنا محال تھا لیکن اب اس کا صحیح سلامت رہنا انسان نہیں بلکہ خدا کا کام