حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 338
حیات احمد ۳۳۸ جلد پنجم حصہ اول آنحضرت ﷺ سے مروی ہے جس کو متفق علیہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے عَجِبْنَا لَهُ يَسْئَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ یعنی ہم نے اس شخص کی حالت سے تعجب کیا کہ پوچھتا بھی ہے اور پھر مانتا بھی جاتا ہے۔اب دیکھو کہ اس حدیث شریف میں بھی عجبـنـا کا صلہ لام ہی لکھا ہے اور عَجِبْنَا مِنْهُ نہیں لکھا بلکہ عَجِبْنَا لَۀ کہا ہے۔اب کوئی مولوی صاحب انصاف فرما ئیں کہ ایک شخص جو اپنے تئیں مولوی کہلا تا ہے بلکہ دوسرے مولویوں کا سرگروہ اور ایڈووکیٹ اپنے تئیں قرار دیتا ہے کیا اس کے لئے یہ ذلّت نہیں ہے کہ اب تک اس کو یہ خبر ہی نہیں کہ عجب کا صلہ کام بھی آیا کرتا ہے۔کیا اس قدر جہالت کہ مشکوۃ کے كِتَابُ الاِیمان کی حدیث کی بھی خبر نہیں کیا یہ عزت کا موجب ہے اور اس سے مولویت کے دامن کو کوئی ذلت کا دھبہ نہیں لگتا؟ پھر جب کہ یہ امر پبلک پر عام طور پر کھل گیا اور ہزار ہا اہل علم کو معلوم ہو گیا کہ محمدحسین نہ صرف علم صرف ونحو سے ناواقف ہے بلکہ جو کچھ احادیث کے الفاظ ہیں ان سے بھی بے خبر ہے تو کیا یہ شہرت اس کی عزت کا موجب ہوئی یا ذلت کا ؟“ تبلیغ رسالت جلد ۸ صفه ۱۰۰ تا ۱۰۸۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۳۶ تا ۴۱ ۳ طبع بار دوم ) یہ سال تائیدی نشانات کا ایک سال تھا یوں تو حضرت اقدس کی تائید اور اظہار صداقت کے لئے تائیدی نشانات ہر دن کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہوتے ہی رہتے تھے مگر بعض خاص نشان ایک خاص عظمت کے مظہر تھے ان نشانات میں سے ایک بڑا نشان حضرت صاحبزادہ مبارک احمد مرحوم کی پیدائش کا ہے حضرت اقدس نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ عبدالحق ( غزنوی) نہیں مرے گا جب تک میرے چوتھے بیٹے کی پیدائش نہ دیکھ لے یہ ولادت عبدالحق کے مباہلہ امرتسر کے سلسلہ میں حضرت کی صداقت کا نشان تھا۔چنانچہ ۴ ارجون ۱۸۹۹ء بعد دو پہر صاحبزادہ مرحوم کی ولادت ہوئی جس کا اعلان خاص ضمیمہ کے ذریعہ کیا گیا ہے۔