حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 327
حیات احمد ۳۲۷ جلد پنجم حصہ اول ہے۔اللہ جَلَّ شَانُہ جانتا ہے جس پر جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے کہ اس عالم الغیب نے مجھے پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ اس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے۔پھر میں نے اشتہار ۲۵ / جون ۱۸۹۷ء کے صفحہ میں مذکورہ پیشگوئیوں کا اعادہ کر کے دسویں سطر سے سولہویں سطر تک یہ عبارت لکھی ہے۔”ہم نے گزشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب اندر والے ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اس خدا داد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود ان کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور درد طاری ہوتی ہے سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر بنی نہ تھی۔بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الہی نے ہمیں بخشا ہے“۔پھر اسی اشتہار کے صفحہبہ میں یعنی سطر ۱۹ سے ۲۱ تک یہ عبارت ہے۔”کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ( حاشیه از مرتب ) نہایت افسوس کی بات ہے کہ جس عادت زبوں نے ترکوں کو یہ روز بد دکھایا اور عیسائی سلطنتوں کے ہاتھوں اُسے برباد کرایا، وہ عادت ابھی تک ان میں کم و بیش پائی جاتی ہے یہ عادت ملک وقوم کی اغراض پر اپنی ذاتی اغراض کو ترجیح دینا ہے۔حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ یہ تباہی بخش مرض عام لوگوں کے طبقہ سے گزر کر سر بر آوردہ طبقہ کے اشخاص میں گھر کر گیا ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ کسی نہ کسی نمک حرام ترک افسر کی غداری کی خبریں مشہور نہ ہوتی ہوں۔اب جو شخص ملک و قوم کی اغراض کو ایک طرف پھینک کر غذاری کے میدان میں نکلا ہے۔کمال الدین پاشا فرزند عثمان پاشا ہے یہ نو جوان سلطان المعظم کا داماد تھا مگر کچھ عرصہ سے اس کی ہوا ایسی بگڑی ہے اور کسی دشمن نے اُس پر ایسا جادو چلایا کہ وہ علانیہ سرکشی پر کمر بستہ ہو گیا ہے۔یہ حالت دیکھ کر دختر سلطان المعظم نے اس سے کنارہ کر لیا اور زوجیت کے تمام تعلقات قطع کر دیے۔اب یہ نو جوان بروسا میں نظر بند کیا گیا ہے اور اس کے تمام تمغہ جات و جا گیر وغیرہ ضبط ہوگئی۔کیسا دردناک سبق ہے کہ جس شخص کو سلطنت کی ترقی و اقبال میں ساعی ہونا چاہیے تھا وہ سازش کے جرم میں زندان میں ڈالا جائے۔جب تک ترکوں میں اس قسم کے آدمی ہیں وہ اپنے آپ کو کبھی بھی خطرہ سے باہر نہیں نکال سکتے۔( منقول از اخبار وکیل نمبر ۶۴ جلده امورخه ۲۷ اگست ۱۹۰۴ صفحه ۸ کالم ۲)