حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 298 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 298

حیات احمد ۲۹۸ جلد پنجم حصہ اول ایک گھنٹہ کے بعد کہا کہ مجھے بھی کسی شخص نے کہا ہے کہ وہ چھینیا ہے۔ہم نہیں کہتے کہ الہی بخش صاحب ضرور دھوبی ہیں مگر چونکہ انہوں نے ایک راستباز مامورمن اللہ کا مقابلہ کیا ہے اس واسطہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ سے پکارا ہے۔(۴) ۲۱ ستمبر ۱۸۹۹ء کی رات کو الہام ہوا عَدُ و لَكُم “ نہایت ہی حیرت انگیز امر یہ ہے کہ الہی الہامات جو ایک ہی سر چشمہ سے جاری ہوتے ہیں کیسے ایک دوسرے کے مخالف ہو سکتے ہیں؟ میں اس امر کے فیصلہ کے لئے خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میرے مندرجہ بالا الہامات خدا کی طرف سے ہیں میرا افترا نہیں۔اگر میں افترا کرتا ہوں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلت کا مستوجب ہوں۔اب میں منشی الہی بخش صاحب کی خدمت میں بڑے ادب و انکسار سے عرض کرتا ہوں کہ اگر در حقیقت وہ اس مخالفت پر نیک نیتی سے قائم ہوئے ہیں اور فی الواقعہ ان کے الہامات کا مُشَار الیہ حضرت اقدس ہی ہیں کوئی شخص اور نہیں۔اور وہ اپنے آپ کو اس کام میں کامل اطمینان ویقین کے ساتھ سچا سمجھتے ہیں تو خدا کے واسطہ خلق اللہ کو اس عظیم فتنہ سے بچانے کے لئے میری صریح حلف کے ساتھ ان الہامات کو جو اُن کی اپنی صداقت اور حضرت اقدس جناب مرزا غلام احمد صاحب کی تکذیب میں ہوئے ہیں بہت جلد بذریعہ اشتہار شایع کر دیں اور لکھ دیں کہ ان میرے الہامات سے الہی انتشار حقیقی طور پر مرزا صاحب کی تکفیر و تکذیب ہے اور ان الہامات میں اور ان کی تفسیر میں میرا اپنا کچھ افترا و دخل نہیں ہے۔اگر میں افترا سے کام لیتا ہوں اور غلطی پر ہوں تو حق و بطلان میں کھلی کھلی تمیز دکھلانے کے لئے خدا تعالیٰ مجھے رسوا و ذلیل کرے میں امید کرتا ہوں کہ منشی صاحب فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ۔بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۔أَمَّا بِنَعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ وغيره احکام الہی کو مد نظر فرما کر ضرور ضرور اپنے الہامات شائع کر کے دکھلاویں گے کہ وہ درحقیقت بنی نوع انسان کے نیچے ہمدرد و خیر خواہ ہیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔محمد علی خادم حضرت اقدس مجد دوقت مهدی و مسیح موعود جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی از لاہور ۲۱ ستمبر ۱۸۹۹ء