حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 290
حیات احمد ۲۹۰ جلد پنجم حصہ اول ۲۵ فروری ۱۸۹۹ء بعد از تهجد (۱) آج بڑی رات لے کر میں نماز تہجد کو اٹھا بعد فراغت نماز استغفار پڑھتے پڑھتے عالم غنودگی طاری ہو کر سو گیا کیا دیکھتا ہوں کہ گھوڑے پر سوار ہوں اور کسی طرف کو جارہا ہوں محمد حسین میرا پسر میرے ہمراہ ہے ایک دریا کناروں تک بھرا ہوا نظر آیا دریا طغیانی میں ہے دل میں خیال کرتا ہوں کہ اب عبور کیسے ہو گا۔مگر گھوڑے برابر پانی میں رپ رپ چل رہے ہیں ذرا نہیں رکتے وہیں سے کسی شخص کی آواز آئی کہ آپ پل کے رستہ سے چل کر پار ہو جائیں میں نے کہا جو رستہ ہم نے پانا تھا پالیا اب دیکھتے رہو اسی راستے سے گھوڑے پار ہو جاتے ہیں یا نہیں ہمارے امام نے ہم کو یہی سیدھا راستہ بتایا ہے ہم غیروں کے رستے پر کیوں جائیں۔اتنے میں حضرت امام ہمام علیہ السلام سامنے نظر آئے خوب صاف ستھری جگہ تھی ہم وہاں بیٹھ گئے وہاں ایک بڑا سا ڈھیر کئی سومن شکرتری (سفید چینی ) کا لگا ہوا ہے جس کو دیکھ کر میں متعجب ہو رہا ہوں۔کسی نے پوچھا یہ کیا ڈھیر ہے اور کس کا ہے میں جواب میں کہتا ہوں یہ ڈھیر ہمارے امام ہمام علیہ السلام کی برکات وانوار کا ہے جو میرے سپرد ہوا ہے جس کو حکم ہوگا اس پر تقسیم کروں گا اسی گفتگو میں حضرت امام نے نماز کا اشارہ فرمایا۔میں اٹھا اور وضو کر کے نماز فجر میں مشغول ہوا۔اٹھتے اٹھتے یہ الہام ہوا۔واسْتَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ یعنی مانگو اللہ سے اس کا فضل۔۴ مارچ ۱۸۹۹ قبل از تهجد (۲) ایک رات مجھ کو قیامت کا عالم دکھلایا گیا انوار و برکات کے بھی عجائبات مشاہدہ کئے اور مقامات خوف و خطر بھی دکھلائے گئے وہاں ایک کرسی پر جناب رسالت مآب رونق افروز ہیں اور ایک طرف بہت قریب حضرت مرزا صاحب بھی کرسی نشین ہیں باقی اصحاب کبار اپنے اپنے درجہ کے موافق مسندنشین ہیں نظر آئے اتنے میں شَرَابًا طَهُورًا کے تقسیم کرنے کا ارشاد ہوا ہے حضرت