حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 286 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 286

حیات احمد ۲۸۶ جلد پنجم حصہ اول تمام لوگوں کو یہاں لازماً انگریزی ٹوپی پہنی پڑتی ہے بعض غریب لوگ قابل رحم حالت میں تھے۔کپڑے پھٹے ہوئے پاؤں سے نگے کپڑے میلے مگر سر پر ٹوپی انگریزی ہے وہ لوگ جن کو کھانے کے لئے روٹی میسر نہیں اس پابندی سے خوش نہیں ہیں۔مجھے اور برادرم ابراہیم صاحب کو چند گھنٹے یہاں ٹھہر نا ملا اس لئے کہ ہمارے پاس ترکی کا پاسپورٹ نہ تھا اور نہ ہی شہر میں کوئی ہوٹل وغیرہ تھا جہاں قیام کی صورت ہوتی تاہم میرا چند ساعت کا قیام اس لئے اہم تھا کہ ہم نے راستہ کی ساری مشقت اسی لئے اٹھائی تھی کہ نصیبین سے ہو کر جاسکیں ور نہ اس سے بڑھ کر آرام کا راستہ موجود تھا۔مسیح کے قدموں کے نشان مسیح کے قدموں کے نشان ڈھونڈنے کے لئے صرف اتنی ہی ضرورت نہیں کہ کوئی آدمی نصیبین پہنچ کر چند یوم بیٹھے اور چلا آوے بلکہ اس کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے اور میرے نزدیک اس کے لئے ضرورت ہے کہ ایک سفر خاص بیت المقدس سے شروع ہو کر ہندوستان تک ختم کیا جاوے اور اس سارے راستے کو ڈھونڈا جائے اس ضمن میں علماء آثار سے مختلف مذاہب کے ہادیوں کے بارے میں گفتگو کی جائے اور پرانے کاغذات وغیرہ کا سراغ لگایا جا وے تو یقینا کوئی سراغ مسیح کے متعلق مل سکے اور اگر کوئی ٹھوس ثبوت پرانے آثار سے مل جائے تو فتح ہوگی۔شہادت المسلمین ایک طرف تو بعض مدعیان الهام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اپنے الہامات وغیرہ کے مدعی تھے اگر چہ انہیں کبھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ مرد میدان بن کر سامنے آئیں اور ان الہامات یا کشوف کو شائع کریں۔اگر کسی نے کبھی ایسی جرات کی جیسے عبدالحق غزنوی تو آسمانی فیصلہ نے اس کو شیطانی ثابت کر دیا اور بعض کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے الہامات شائع کریں تا کہ تائید ربانی فیصلہ