حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 214
حیات احمد ۲۱۴ جلد پنجم حصہ اول آئے گا۔اور اس کے آنے کا یہ نشان لکھا تھا کہ اس وقت یہودیوں کی سلطنت جاتی رہے گی۔جیسا کہ توریت پیدائش باب ۴۹ آیت دن میں لکھا تھا کہ ” یہوداہ سے ریاست کا عصا جدا نہ ہوگا اور نہ حکم اس کے پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا جب تک سیلانہ آوے یعنی عیسی علیہ السلام۔اور قو میں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔اس آیت کا یہی مطلب تھا کہ یہودیوں کی سلطنت جو خدا تعالیٰ کی بہت نافرمانی کریں گے مسیح موعود تک بہر حال قائم رہے گی اور ان کا عصائے حکومت نہیں ٹوٹے گا جب تک ان کا مسیح موعود یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نہ آوے اور جب وہ آ جائے گا تو وہ عصا ٹوٹے گا اور دنیا میں ان کی سلطنت باقی نہ رہے گی۔اسی طرح سلسلہ خلافت محمدیہ کے مسیح موعود کو صحیح بخاری میں عیسائی مذہب کی انتہا اور شروع انحطاط کا نشان قرار دیا ہے۔چنانچہ بخاری کے لفظ يَكْسِرُ الصَّليب کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی مذہب کی ترقی کم نہ ہوگی اور نہ اس کا قدم آگے بڑھنے سے ضعیف ہوگا اور نہ وہ گھٹے گا جب تک خلافت محمدیہ کا مسیح موعود نہ آوے۔اور وہی ہے جو صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو ہلاک کرے گا۔جب وہ آئے گا تو وہی زمانہ صلیبی مذہب کے تنزل کا ہوگا۔اور وہ اگر چہ اس دجال کو یعنی دجالی خیالات کو اپنے حربہ براہین سے معدوم بھی نہ کرے تب بھی وہ زمانہ ایسا ہوگا کہ خود بخودوہ خیالات دور ہوتے چلے جائیں گے۔اور اُس کے ظہور کے وقت تشکیعی مذہب کے زوال کا وقت پہنچ جائے گا اور اس کا آنا اس مذہب کے گم ہونے کا نشان ہوگا۔یعنی اس کے ظہور کے ساتھ وہ ہوا چلے گی جو دلوں اور دماغوں کو تکلیٹی مذہب کے مخالف کھینچے گی۔اور ہزاروں دلائل اس مذہب کے بطلان کے لئے پیدا ہو جائیں گے اور بجر عقلی اور آسمانی نشانوں کے مذہب کے لئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوگی۔خود زمانہ ہی اس تبدیلی کو چاہے گا۔اگر وہ مسیح نوٹ۔دونوں پیشگوئیوں میں صرف فرق یہ ہے کہ پہلی پیشگوئی میں مسیح موعود کے ظہور کا نشان یہودیوں کا زوالِ سلطنت تھا اور دوسری پیشگوئی میں مسیح موعود کے ظہور کا نشان تکیفی مذہب کے انحطاط کے آثار ہیں۔غرض دوسری پیشگوئی کو سلطنت سے کچھ تعلق نہیں جیسا کہ پہلی پیشگوئی کو مذہب سے کچھ تعلق نہ تھا۔منہ