حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 6
حیات احمد جلد پنجم حصہ اوّل گیا۔باوجود یکہ حضرت امیر المؤمنین اَيَّدَهُ اللهُ بِنَصْرِهِ الْعَزِيزِ نے اپنے عہد خلافت کے آغاز میں اس کام پر مامور کیا تھا اور وقتاً فوقتاً اس تالیف کے لئے مجلس مشاورت کے موقعہ پر اس کی اہمیت اور ضرورت کو واضح فرمایا اور ہر گھر میں خواندہ ہو یا نا خواندہ اس کا رہنا ضروری قرار دیا۔مگر میں ان اسباب سے ناواقف ہوں کہ احباب نے بجر بعض مخلصین کے مجھے سبک بار کرنے کی کوشش نہیں کی، ہو سکتا ہے کہ بعض کو میری زبان کی تلخ گوئی پسند نہ ہو۔اگر اس وجہ سے وہ اس کام میں شریک نہ ہوں تو میں کہوں گا وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں۔یہ تو ان کے اور میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے کارنامہ زندگی کا تذکرہ ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا اور یہ بھی فرمایا کہ اسے شائع کیا جاوے۔غرض میری شخصیت اور میری کسی ذاتی رائے کے طریق اظہار کا اس کے ساتھ تعلق نہیں ہونا چاہیے۔یہ دکھ کی بات ضمناً آگئی۔میں چاہتا ہوں کہ ہر احمدی کتاب کو پڑھے۔کم از کم ہر خاندان میں اس کا ایک نسخہ موجود ہو۔یہ کام تو میری ذات کا نہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے ہی اس وقت تک اس کی توفیق بخشی ہے اور وہ اپنے فضل سے توفیق تکمیل بھی دے دے تو کیا عجب؟ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِير (۴) اس سلسلہ میں حضرت اقدس کے مرفوع ہونے تک گویا دو جلدیں اور ہوں گی یہ جلد اگر ۱۹۰۲ ء تک شائع ہوگئی تو پھر ایک ہی جلد اور ہوگی۔اس سلسلہ میں کیا کام اب تک ہوا ہے اس کا ذکر بھی نامناسب نہیں اس سلسلہ تالیف کے تین حصے تھے۔(۱) سوانح حیات (۲) سیرت (۳) مکتوبات۔سوانح حیات میں پیدائش سے ۱۸۹۷ء تک کے واقعات سے شائع ہو چکے۔سیرت کے سلسلہ میں چارجلدیں شائع ہو چکیں مکتوبات کی چھ جلدیں مکمل ہو گئیں جن میں سے بعض کے کئی کئی نمبر ہیں۔اسی سلسلہ میں وہ مضامین نادرہ بھی ہیں جو مختلف اخبارات ورسائل میں آپ کی بعثت سے پہلے شائع ہوئے تھے۔(۵) اس جلد کا آغاز تو ۱۸۹۸ء سے بظاہر ہوتا ہے مگر ۱۸۹۷ء کے بعض واقعات بطور تمہ بھی دیئے گئے ہیں اس لئے کہ میرے پاس مطبوعہ مواد نہ تھا جو میری تحریک پر مکرم بھائی حضرت عبدالرحمن صاحب قادیانی سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالیٰ نے مہیا کر دیا ہے۔وہ مطبوعہ مواد میرے ہی قلم کا نتیجہ ہے مگر ۱۹۴۷ء