حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 147
حیات احمد ۱۴۷ جلد پنجم حصہ اول تلاشی ہوئی اور پنڈت لیکھرام کے مرنے کے بعد میں نے ایک اشتہار جاری کیا جو مجھ کو اب پڑھ کر سنایا گیا جب مقدمہ ڈاکٹر کلارک صاحب کا ہوا اس میں کپتان ڈگلس صاحب نے مجھے یہ ہدایت دی تھی اور میں نے ایک نوٹس پر دستخط کئے تھے پنڈت لیکھرام نے ایک اشتہار اپنی طرف سے میری نسبت دیا تھا کہ تم تین برس میں ہیضہ کی بیماری سے مرجاؤ گے اور اس پیشگوئی کو اس نے پہلے آپ شائع کیا تھا۔دستخط مرزا غلام احمد بقلم خود الحکم قادیان میں جاری ہوتا ہے۔جو اس کا ایڈیٹر ہے وہ میرے مریدوں میں سے ہے ان میں سے جو فقرہ (0) پڑھ کر مجھ کو سنایا گیا وہ میرے مشورہ سے جاری نہیں ہوا مجھ کو فرصت نہیں کہ میں ایسے معاملات دیکھ سکوں میرے حالات کے لئے میری تعلیمیں دیکھی جاویں جو میری کتابوں میں ہیں۔دستخط مرزا غلام احمد بقلم خود یہاں ہمارے مواجہ سماعت میں تحریر ہوکر سنایا گیا۔سن کر درست تسلیم کیا۔دستخط حاکم بیان محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ نمبر ۵۶۴ گواه استغاثه با قرار صالحه و میں بٹالہ میں ۱۸۹۳ء سے ڈپٹی انسپکٹر ہوں یہ بحث مذہبی ان پانچ سالوں میں برابر جاری رہا ہے مولوی محمد حسین نے مجھ کو چھری دکھلائی تھی۔یہ کہا تھا کہ آپ نے سنا ہے کہ مرزا غلام احمد نے جو تیرہ مہینے کی میعاد کا اشتہار جاری کیا ہے۔میں اپنی حفاظت کے واسطے اس کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں بوجہ اس کے خوف کے۔کیا اس کے واسطے کچھ لائسنس کی ضرورت ہوگی ؟ میں نے اس کو کہا کہ میرے خیال میں یہ معمولی چھری ہے اور اس کے واسطے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس وقت مولوی محمد حسین نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ میں پستول اور بندوق کے لئے درخواست لائسنس کی کروں گا۔الحکم قادیان میں چھپتا ہے اور شیخ یعقوب علی اس کا ایڈیٹر ہے۔مرزا غلام احمد کے اہتمام میں چھپتا ہے میرے خیال میں جو کچھ اس میں چھپتا ہے وہ مرزا کے مشورہ اور ملاحظہ سے اور ان کی نگرانی میں چھاپا جاتا ہے۔یعقوب علی اس کے مکان میں رہتا ہے اسی سے کھانا کھاتا ہے۔ان دونوں فریقوں کا جوش بڑا اشتعال انگیز ہے اور دشمنی سالہا سال سے چلی آتی ہے جب پنڈت لیکھر ام مارا گیا اس وقت