حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 121 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 121

حیات احمد ۱۲۱ جلد پنجم حصہ اول اور سچا نبی اور خدا کا پیارا نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ لعنتی ہے جس کا دل پاک نہیں ہے۔اور جیسا کہ مفہوم لعنت کا ہے وہ خدا سے بجان و دل بیزار اور اللہ اُس سے بیزار ہے لیکن خدائے قادر و قیوم نے بدنیت یہودیوں کو اس راہ سے ناکام و نامراد رکھا اور اپنے پاک نبی علیہ السلام کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا بلکہ اس کو ایک سو بیس برس تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہودیوں کو اس کے سامنے ہلاک کیا۔ہاں خدا تعالیٰ کی اُس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اولو العزم نبی ایسا نہیں گزرا جس نے قوم کی ایذا کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پا کر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تھے، خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخر کار خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر خانیار کے محلہ میں باعز از تمام دفن کئے گئے۔آپ کی قبر بہت مشہور ہے يُزَارُ وَيُتَبَرَّكُ بِہ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے ہمارے سید و مولی نبی آخر الزمان کو جو سید المتقین تھے انواع اقسام کی تائیدات سے مظفر اور منصور کیا۔گواوائل میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی طرح داغ ہجرت آپ کے بھی نصیب ہوا مگر وہی ہجرت ، فتح اور نصرت کے مبادی اپنے اندر رکھتی تھی۔سوائے دوستو! یقیناً سمجھو کہ متقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا۔جب دوفریق آپس میں دشمنی کرتے ہیں اور خصومت کو انتہاء تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور پر ہیز گار ہوتا ہے آسمان سے اس کے لئے مدد نازل ہوتی ہے اور اس طرح پر آسمانی فیصلہ سے مذہبی جھگڑے انفصال پا جاتے ہیں۔دیکھو ہمارے سید و مولا مینا محمد مہ کیسی کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابو جہل وغیرہ کفار کا کیا عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت ﷺ کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی علہ کو فتح اور ظفر بخشی۔یقینا سمجھو کہ یہی