حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 111 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 111

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول مکفرین نے اس کی یا اس کے استاد میاں نذیر حسین دہلوی کی پیروی کی ہے۔اس لئے اسی کو اس درخواست مباہلہ میں مخاطب کیا گیا ہے چونکہ اس نے حضرت اقدس مرزا صاحب سَلَّمَهُ رَبُّہ کی تکفیر اور تکذیب پر حد سے زیادہ زور مارا ہے اور باوجود یکہ وہ اپنی نا کامیابیوں اور حضرت اقدس کی کامیابیوں کو بارہا دیکھ چکا اور بہت سے نشانات بھی ملاحظہ کر چکا ہے مگر اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔اس لئے اس کو مباہلہ کی دعوت کی جاتی ہے جو آسمانی اور خدائی فیصلہ ہے۔یہ مباہلہ بدوں کسی قسم کی شرط کے ہوگا اور اگر ایک سال کے اندر نتیجہ مقابلہ ہمارے حق میں نہ ہوا اور ایک اثر قابل اطمینان ہماری تائید میں ظہور میں نہ آیا تو رقم مندرجہ بالا جو پہلے سے جمع کرا دی جاوے گی ان کو بطور نشان کامیابی ان صاحبوں کی طرف سے دی جاوے گی جنہوں نے وہ مقرر کی ہے۔لہذا اب ہم پنجاب کے ان معززین کو جو میاں محمد حسین کو جانتے ہیں اور اُن سر بر آوردہ حضرات کو جن کی شیخ صاحب سے آشنائی ہے اور اُن خدا ترس لوگوں کو جو اسلام میں تفرقہ اور فتنہ پسند نہیں کرتے مخاطب کر کے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ خلق اللہ پر رحم کریں اور ان کو پریشانی اور گھبراہٹ میں نہ رہنے دیں وہ میاں محمد حسین کو مباہلہ پر آمادہ کریں تا کہ یہ آئے دن کا جھگڑا ایک سال کے اندر طے ہو جاوے کا ذب مفتری خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے آکر دنیا سے اٹھ جاوے یا کسی شدید عذاب میں مبتلا ہو کر صداقت پر مہر کر دے۔اس پر بھی اگر میاں محمد حسین انکار کریں اور مباہلہ کے لئے مردِ میدان ہو کر نہ نکلیں تو پھر اے آسمان گواہ رہ اور اے زمین سن رکھ کہ حجت پوری کر دی گئی۔اور ہم تمام اہلِ اسلام کی خدمت میں نہایت ادب سے التماس کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اب بھی میاں محمد حسین صاحب فیصلہ کی سیدھی راہ پر نہ آئیں تو پھر آپ خود انصاف کر لیں کہ سچ کس کے ساتھ ہے اور آئندہ اپنی زندگی کے چند عارضی اور بے بنیاد دنوں