حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 104 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 104

حیات احمد یہ کتاب کیوں لکھی گئی ۱۰۴ ضرورۃ الامام کی تصنیف جلد پنجم حصہ اول اگست ۱۸۹۸ء کے اواخر یا ستمبر ۱۸۹۸ء کے اوائل میں لاہور سے منشی الہی بخش اکونٹنٹ اور منشی عبدالحق صاحب پنشن کونٹ محکمہ نہر قادیان آئے اور ظہر کی نماز میں شریک نماز ہوئے خاکسار راقم کو دونوں صاحبان سے بے تکلفی کے تعلقات تعارف تھے منشی عبدالحق صاحب سے تو ایک سال سے زائد تک عزت جوار بھی حاصل رہی وہ ہنس مکھ تھے برخلاف اس کے منشی الہی بخش صاحب میں خشونت پائی جاتی تھی جو ان کے چہرہ سے بھی نمایاں تھی مگر دونوں اپنے علم وفہم کے موافق عملاً مسلمان تھے اہلحدیث تھے اور حضرت مولوی عبداللہ غزنوی کے مریدوں میں داخل تھے براہین احمدیہ کے آغاز سے حضرت اقدس سے تعلقات ارادت قائم کئے وہ اس عہد میں بڑے مخلص اور مددگار تھے اکثر اوقات حضرت اقدس کی ضروریات سلسلہ میں (جہاں تک میر اعلم ہے ) برنگ قرضہ آگے آتے تھے۔خود حضرت اقدس نے اپنے بعض مکتوبات میں ان کی خدمات و اخلاص کا ذکر کیا ہے جس طرح پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی براہین کے زمانہ اشاعت میں بڑے مخلص اور ارادتمند تھے یہ لوگ بھی کسی سے پیچھے نہ تھے۔غرض اوائل ستمبر میں یہ دونوں قادیان آئے اور سب سے پہلے مجھ سے ملاقات ہوئی اور کہا کہ میرے آنے کا ذکر اخبار میں نہ کرنا میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ کیا غیر حاضری کر آئے ہو، نماز ہوئی، حضرت سے ملاقات ہوئی۔منشی الہی بخش صاحب اس امر کے بھی مدعی تھے کہ ان کو الہام ہوتا ہے۔اور ہم میں سے کسی کو اس کے انکار کی ضرورت نہ تھی مگر اس دفعہ وہ کسی دوسرے رنگ میں آئے تھے ان کو بعض الہامات (جیسا کہ انہوں نے ظاہر کیا ) ایسے ہوئے ہیں جن میں ان کو موسیٰ کہا گیا ہے۔چنانچہ تخلیہ میں حضرت اقدس کے حضور اپنے الہامات وغیرہ پیش کئے۔