حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 96 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 96

حیات احمد ۹۶ جلد پنجم حصہ اول و نقل رپورٹ منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پر گنہ بٹالہ ضلع گورداسپور بمقدمه عذر داری ٹیکس مشمول مثل اجلاسی مسٹرٹی ڈیکسن صاحب ڈپٹی کمیشنر بہادر مرجو عہ ۲۰ جون ۹۸۔فیصلہ ۱۷ ستمبر ۹۵ نمبر بسته از محکمہ نمبر مقدمه ۵۵/۴۶ مثل عذر داری انکم ٹیکس مستمی مرزا غلام احم ولد غلام مرتضی ذات مغل سکنہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور بحضور جناب والاشان جناب ڈپٹی کمشنر بہا در ضلع گورداسپور جناب عالی! مرزا غلام احمد قادیانی پر اس سال ۶۷ اروپے ۸آنے انکم ٹیکس تشخیص ہوا تھا اس سے پہلے مرزا غلام احمد پر کبھی ٹیکس تشخیص نہیں ہوا چونکہ یہ ٹیکس نیالگایا گیا تھا مرزا غلام احمد قادیانی نے اس پر عدالت حضور میں عذر داری دائر کی جو بنابر دریافت سپر دمحکمہ ہذا ہوئی۔پیشتر اس کے کہ انکم ٹیکس کے متعلق جس قدر تحقیقات کی گئی ہے اس کا ذکر کیا جائے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا کچھ ذکر گوش گزار حضور کیا جاوے تا کہ معلوم ہو کہ عذر دارکون ہے اور کس حیثیت کا آدمی ہے۔مرزا غلام احمد ایک پرانے معزز خاندان مغل میں سے ہے جو موضع قادیان میں عرصہ سے سکونت پذیر ہے اس کا والد مرزا غلام مرتضی ایک زمیندار تھا اور موضع قادیان کا رئیس تھا۔اس نے اپنی وفات پرا یک معقول جائیداد چھوڑی اس میں سے کچھ جائداد تو مرزا غلام احمد کے پاس اب بھی ہے اور کچھ مرزا سلطان احمد پسر مرزا غلام احمد کے پاس ہے جو اس کو مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوی کے توسل سے ملی ہے یہ جائیدا دا اکثر زرعی مثلاً باغ۔زمین اور تعلقہ داری چند دیہات ہے اور چونکہ مرزا غلام مرتضیٰ ایک معزز رئیس آدمی تھا ممکن ہے اور میری رائے میں اغلب ہے کہ اس نے بہت سی نقدی اور زیورات بھی چھوڑے ہوں لیکن ایسی جائداد غیر منقولہ کی نسبت قابل اطمینان شہادت نہیں گزری۔مرزا غلام احمد ابتدائی ایام میں خود ملازمت کرتا رہا ہے اس کا طریق عمل ہمیشہ سے ایسا رہا ہے کہ اس سے امید نہیں ہو سکتی کہ اس نے اپنی آمدنی یا اپنے والد کی جائداد نقدی وزیورات کو تباہ کیا ہو جو جائیداد غیر منقولہ اس کو باپ سے وراثتاً پہنچی ہے۔وہ تو اب بھی موجود ہے لیکن جائیداد غیر منقولہ کی