حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 95
حیات احمد ۹۵ جلد پنجم حصہ اول صاحب قادیانی نے ان کا جواب لکھا تھا اور جب اسلامیہ کالج میں وہ جواب پڑھے گئے تو پڑھنے سے پہلے سیکرٹری انجمن نے فرمایا کہ چونکہ اس انجمن کا یہ پہلا مقصد ہے کہ مخالفوں کا جواب دیا جائے لہذا مرزا غلام احمد صاحب کی طرف سے دیا جاتا ہے کیا خوب جواب لکھے حوالے مرزا صاحب اور فرض انجمن کا ادا ہو گیا! اور لوگ حیران تھے اکثر اراکین انجمن تو مرزا صاحب کو کافر کہتے ہیں تو پھر انہی کو کیوں مختار کرتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں سے لڑواور ہماری حمایت کرو۔اگر اب بھی انجمن پچھلے سال کی طرح مرزا غلام احمد صاحب کی طرف لکھ دیتی کہ ہمارا ہاتھ پکڑو تو میموریل بھیجنے سے یہ اچھا تھا کیوں کہ وہ اسی کام کے واسطے بیٹھے ہیں مخالفین کے حملوں کا نیا محاذ 66 راقم قاضی غلام حیدر از کرنا نہ متصل جوڑا اضلع گجرت جیسے جیسے سلسلہ ترقی کرتا جا رہا تھا اسی قدر مخالفت بھی تیز ہوتی جارہی تھی مارٹن کلارک کے مقدمہ میں ناکامی اور ندامت نے برانگیختہ کیا اور انہوں نے نئے حملوں کا آغاز کیا۔ان میں سے پہلا حملہ یہ کیا کہ حضرت اقدس کے خلاف مخبری کی گئی کہ ان کی آمدنی اس قابل ہے کہ ان پر ٹیکس لگایا جاوے۔اس مخبری پر ڈپٹی کمیشنر گورداسپور نے میاں تاجدین صاحب باغبانپوری تحصیل دار بٹالہ کو تحقیقات کے لئے مقرر کیا اس مقدمہ کی پیروی کے لئے حضرت اقدس نے حکیم فضل الدین رضی اللہ عنہ کو مامور کیا اور خاکسار کو بھی ان کے ساتھ رہنے کا ارشاد فرمایا۔اس مقدمہ میں جماعت کے 4 افراد شہادت میں پیش ہوئے ہیں جن میں خاکسار بھی بطور شاہد پیش ہوا۔اور دوسرے گواہ جو ہندو اور مسلمان تھے اور سلسلہ سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا میاں تاج الدین صاحب تکمیل تحقیقات کے لئے قادیان آئے اور انہوں نے تمام حالات کا بچشم خود معائنہ کر کے صاحب ڈپٹی کمیشنر ٹی۔ڈیکسن نامی کو مندرجہ ذیل رپورٹ بھیجی جس پر صاحب موصوف نے آخری حکم دے دیا اور مقدمہ ٹیکس اس طرح پر خارج ہو گیا وہ رپورٹ اور حکم آخر حسب ذیل ہے۔