حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 85
حیات احمد ۸۵ جلد پنجم حصہ اول ہے کہ ڈاکٹر نے ہی ماردیا ہوگا اور نہ اس قدر جلدی کیوں مرگیا۔مگر ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایسے وقت میں جو کسی قدر علاج کے قابل تھا پوشیدہ گھر میں رکھا گیا اور جب ڈاکٹر کے قبضہ میں آیا تب خود وقت اجل بھی اس کے ساتھ ہی پہنچ گیا تھا اور اگر کسی ڈاکٹر کی غفلت اور بد روشی ہو بھی تو گورنمنٹ اس کو بے سزا کب چھوڑتی ہے ہر ایک کو گورنمنٹ کا منصفانہ قانون سوجھتا ہے میں تو قبول نہیں کر سکتا کہ کوئی شریف اور دانا عمداً انسان کی جان پر حملہ کر سکے یہ ایسے بد تصورات اور ضرررساں خیال ہیں جو جلد تر ان کو قوم کے دلوں سے دور کرنا چاہیے یا درکھو ایسا ہونا ممکن ہی نہیں اور مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ایسی بیماریاں جن کے ساتھ ہی کئی قسم کی بیقراریاں اور جان اور مال اور نگ و ناموس کا فکر پڑ جاتا ہے درحقیقت اصل سبب ان کا شامت اعمال ہے کوئی شخص اس بات کو یاد کرے یا نہ کرے مگر یہ تمام موذی اسباب خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے لوگ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنی گورنمنٹ محسنہ کی ناحق کی شکایت کر کے دوھرے طور پر گنہگار ہوتے ہیں گورنمنٹ کا اس میں کیا گناہ ہے کیا گورنمنٹ نے طاعون پیدا کی ہے؟ طاعون دنیا کی شامت اعمال سے آئی اور ناچار گورنمنٹ کو بھی اپنی رعایا کی تکالیف میں شریک ہونا پڑا اور اپنی دور اندیشی اور ہمدردی رعایا کی وجہ سے بڑی تشویش اٹھانی پڑی“۔اور پھر مرزا صاحب نے اسی ذکر کی تقریب میں فرمایا کہ " جس قدر گورنمنٹ عالیہ کو اس بیماری کے دفع کرنے کے لئے اپنی رعایا کی غم خواری میں فکر اور تشویش ہے میں یقین کرتا ہوں کہ یہ فکر خو در عایا کو بھی نہیں۔میں جانتا ہوں کہ گورنمنٹ کے دردمند افسر اس غم میں اپنے پر نیند حرام کئے ہوئے ہیں وہ مال سے جان سے کوشش کر رہے ہیں کہ تا یہ بلا کسی طرح ملک سے نکلے لیکن رعایا کو اس قد رغم ہرگز نہیں اس کا سبب یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ طاعون کس قدر خطر ناک بیماری ہے جس کا دورہ ساٹھ سال تک رہ سکتا ہے اور جو ایک دن میں ہی بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ اور دوستوں کو دوستوں سے جدا کر دیتی ہے لیکن چونکہ ہماری گورنمنٹ اس خطر ناک بیماری پر خوب اطلاع رکھتی ہے اور جانتی ہے کہ جہاں یہ بیماری زور پکڑتی ہے اور اپنے پیر جماتی ہے تو شہروں کو قبرستان اور آباد ملکوں کو جنگل بنادیتی ہے