حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 573 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 573

حیات احمد ۵۷۳ جلد چهارم۔جھوٹا ہے۔بک بک مت کر۔دوسرا یہ دعویٰ کہ پھر وہ باہر کے کمرہ میں ایک کرسی پر جا بیٹھا تو کپتان صاحب پولیس کی نظر اس پر پڑی اور اس وقت لنسٹبل کی معرفت جھڑ کی کے ساتھ اس کرسی سے اٹھایا گیا۔تیسرا یہ دعوی کہ پھر وہ ایک شخص کی چادر لے کر اس پر بیٹھ گیا اس شخص نے چادر بیچے سے کھینچ لی۔اس پر حضرت اقدس نے ۷ / مارچ ۱۸۹۸ء کو ایک مفصل اشتہار شائع کیا جس پر ایک سو سے زائد چشم دید گواہوں کی فہرست بھی درج تھی۔حلا حاشیہ۔اشتہار مذکور یہ ہے۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ کیا محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں کرسی ملی؟ راستی موجب رضائے خداست ) نہایت افسوس ہے کہ اس زمانہ کے بعض نام کے مولوی محض اپنی عزت بنانے کے لئے یا کسی اور غرض نفسانی کی وجہ سے عمداً جھوٹ بولتے ہیں اور اس بد نمونہ سے عوام کو طرح طرح کے معاصی کی جرات دیتے ہیں کیونکہ جھوٹ ام الخبائث ہے اور جب کہ ایک شخص مولوی کہلا کر کھلی کھلی بے شرمی سے جھوٹ بولنا اختیار کرے تو بتلاؤ کہ عوام پر اس کا کیا اثر ہوگا۔ابھی کل کی بات ہے کہ بیچارہ میاں شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو بمقام بٹالہ کرسی مانگنے سے کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے تین مرتبہ جھڑ کیاں دیں اور کرسی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ” بک بک مت کر اور پیچھے ہٹ“ اور ”سیدھا کھڑا ہو جا اور یہ بھی فرمایا کہ ”ہمارے پاس تمہارے کرسی ملنے کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں۔لیکن نہایت افسوس ہے کہ شیخ مذکور نے جابجا کرسی کے بارے میں جھوٹ بولا۔کہیں تو یہ مشہور کیا کہ مجھے کرسی ملی تھی۔اور کسی جگہ یہ کہا کہ کرسی دیتے تھے مگر میں نے عمد ا نہیں لی۔اور کسی جگہ یہ افترا کیا کہ عدالت میں کرسی کا ذکر ہی نہیں آیا۔چنانچہ آج میری طرف بھی اس مضمون کا خط بھیجا ہے کہ اُس کا کرسی مانگنا اور کرسی نہ ملنا اور بجائے اس کے چند جھڑ کیوں سے پیچھے ہٹائے جانا یہ باتیں غلط ہیں۔ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ۔ہم ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ بات فی الواقعہ سچ ہے کہ شیخ مذکور نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی مانگی تھی۔اور اس کا اصل سبب یہی تھا کہ مجھے اُس نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے روبروئے کرسی پر بیٹھے ہوئے