حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 572
حیات احمد ۵۷۲ جلد چهارم ضلع کو ایسی روشن ضمیری بخشی کہ وہ مقدمہ کی اصل حقیقت تک پہنچ گیا۔پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ خود عبد الحمید نے عدالت میں اقرار کر دیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی۔اور صاحب مجسٹریٹ ضلع نے اسی آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور شور کا ایک چٹھہ لکھ کر مجھے بری کر دیا۔اور خدا تعالیٰ کی یہ عجیب شان ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری بریت کو مکمل کرنے کے لئے اُسی عبدالحمید سے پھر دوبارہ میرے حق میں گواہی دلائی تا وہ الہام پورا ہو جو براہین احمدیہ میں آج سے بیس برس پہلے لکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوْا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيْهَا یعنی خدا تعالیٰ نے اس شخص کو اس الزام سے جو اُس پر لگایا جائے گا بری کر دیا ہے۔یعنی بری کر دیا جائے گا۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۴۷ تا ۳۴۹) کتاب البر نہ کی اشاعت کتاب البریہ کی اشاعت ۱۸۹۸ء کے ابتدا میں ہوئی اور اس میں واقعات کے سلسلہ میں مولوی محمد حسین کے کرسی طلب کرنے کا واقعہ بھی آگیا۔جس پر اُسے بڑا جوش آیا اور اس نے ۲۸ فروری ۱۸۹۸ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں ایک خط لکھا۔جس کا خلاصہ درج ذیل ہے اس خط سے مولوی صاحب کے اخلاق کا پتہ لگتا ہے لکھتے ہیں۔از مقام بٹالہ مورخہ ۲۸ / ماہ فروری ۱۸۹۸ء میاں غلام احمد صاحب خدا آپ کو راہِ راست پر لاوے اور ضلالت والحاد سے نجات بخشے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى آپ کا خط ۲۸ فروری ۱۸ ء پہنچا۔۔آپ نے کتاب البریہ کے صفحه ۱۱ ۱۴ ۱۵ میں تین دعوے کئے ہیں اول یہ کہ محمد حسین نے صاحب ڈپٹی کمشنر سے کرسی طلب کی اور کہا کہ اس کو عدالت میں کرسی ملتی تھی اور اس کے باپ کو عدالت میں کرسی ملتی تھی جس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے اس کو تین جھڑ کیاں دیں اور کہا کہ تو