حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 569
حیات احمد ۵۶۹ جلد چهارم میں اس وقت اس لئے خوش ہوں گا کہ میں نے اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی۔“ لالہ دینا ناتھ کہتے تھے کہ مولوی فضل الدین صاحب نے بڑے جوش اور اخلاص سے اس طرح پر مرزا صاحب کا ڈیفنس پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے پھر قلم برداشتہ اپنا بیان لکھ دیا اور خدا کی عجیب قدرت ہے کہ جیسا کہ وہ کہتے تھے اسی بیان پر وہ بری ہو گئے۔مولوی فضل الدین صاحب نے ان کی راستباری اور راستبازی کے لئے ہر قسم کی مصیبت کو قبول کر لینے کی جرات اور بہادری کا ذکر کر کے حاضرین مجلس پر ایک گیف اور حالت پیدا کردی۔اس پر بعض نے پوچھا کہ آپ پھر مرید کیوں نہیں ہو جاتے۔تو انہوں نے کہا کہ یہ میرا ذاتی فعل ہے۔اور تمہیں یہ حق نہیں کہ سوال کرو۔میں انہیں ایک کامل راستباز یقین کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بہت بڑی عظمت ہے۔“ یہ مقدمہ عظیم الشان نشانوں کا مظاہرہ تھا الحکم ۱۴ نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۴ کالم نمبر ۱ ۲ ۳) اس مقدمہ سے پیشتر جیسا کہ قارئین کرام اوپر پڑھ آئے ہیں حضرت اقدس کو متعدد الہامات ہوئے تھے۔اور وہ سب پیش آنے والے واقعات کی پیشگوئیاں تھیں۔اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ اپنے مامورین اور مقبول بندوں کو بعض ایسے امور قضا و قدر سے آگاہ کر دیتا ہے جو اپنے اندر کسی قدر ظاہر میں تکلیف کا رنگ رکھتے ہوں اور اس قبل از وقت اطلاع سے ان کا اطمینان اور دوسروں کے ایمان میں ترقی مقصود ہوتی ہے یہ سارا مقدمہ اوّل سے آخر تک نشانات الہیہ کا ایک چمکتا ہوا ثبوت ہے۔اور خود الہامات میں بَلَجَتْ آيَاتِی موجود ہے حضرت اقدس نے تریاق القلوب ایڈیشن اول کے صفحہ ۹۱ پر اس نشان کے متعلق تفصیلی بحث فرمائی ہے قارئین کرام اسے پڑھیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذ ایمان پیدا کرتی ہے میں یہاں ان الہامات میں سے