حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 568
حیات احمد ۵۶۸ جلد چهارم نے تو اجازت نہیں دی کہ وہ جھوٹ بھی بولے اور نہ قانون ہی کا یہ منشاء ہے۔پس میں کبھی ایسے بیان کے لئے آمادہ نہیں ہوں۔جس میں واقعات کا خلاف ہو۔میں صحیح صحیح امر پیش کروں گا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ میں نے کہا کہ آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں۔انہوں نے فرمایا ”جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ میں قانونی بیان دے کر نا جائز فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے خدا کو ناراض کرلوں یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔خواہ کچھ بھی ہو۔لالہ دینا ناتھ صاحب بیان کرتے تھے کہ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے کہ یہ باتیں مرزا صاحب نے ایسے جوش سے بیان کیں کہ ان کے چہرہ پر ایک خاص قسم کا جلال اور جوش تھا۔میں نے یہ سن کر کہا کہ پھر آپ کو میری وکالت سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ میں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا یا کسی اور شخص کی کوشش سے فائدہ ہوگا۔اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مخالفت مجھے تباہ کر سکتی ہے۔میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے۔آپ کو وکیل اس لئے کیا ہے کہ رعایت اسباب ادب کا طریق ہے۔اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ آپ اپنے کام میں دیانت دار ہیں اس لئے آپ کو مقرر کر لیا ہے۔“ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے کہ میں نے پھر کہا کہ میں تو یہی بیان تجویز کرتا ہوں۔مرزا صاحب نے کہا کہ د نہیں جو بیان میں خود لکھتا ہوں نتیجہ اور انجام سے بے پروا ہوکر وہی داخل کر دو۔اس میں ایک لفظ بھی تبدیل نہ کیا جاوے۔اور میں پورے یقین سے آپ کو کہتا ہوں کہ بمقابلہ آپ کے قانونی بیان سے وہ زیادہ مؤثر ہوگا اور جس نتیجہ کا آپ کو خوف ہے وہ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ انجام انشاء اللہ بخیر ہوگا۔اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ دنیا کی نظر میں انجام اچھا نہ ہو یعنی مجھے سزا ہو جاوے تو مجھے اس کی پروا نہیں۔کیونکہ