حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 559 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 559

حیات احمد ۵۵۹ جلد چهارم آریہ وکیل اور مولوی محمد حسین صاحب اور عبدالحمید بھی موجود تھے اور بعض دوسرے عیسائی بھی جو اس مقدمہ میں گواہ تھے۔ہم لوگ آگے چلے گئے اور یہ واپس آگئے۔مقام عدالت حضرت اقدس تو گویا تیار ہو کر ہی آئے تھے اس لئے قیام گاہ پر کچھ دیر ٹھہر کر ۱۰ بجے سے بقیہ حاشیہ۔تھا میں نے صرف اتنا کہدیا کہ ”مجھے معلوم ہے کہ آپ کا اور مرزا صاحب قادیانی کا مقابلہ ہے اور مقدمہ عدالت میں دائر ہے اس لئے میں اس بات سے معافی چاہتا ہوں کہ اس معاملہ میں زیادہ گفتگو کروں۔جو شیطان ہے اس کا سر خود بخود کچلا جائے گا۔یاد نہیں پڑتا کہ اس کے بعد اور کوئی گفتگو ہوئی یا نہیں میں بٹالہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔کیونکہ ڈپٹی کمشنر صاحب وہیں مقیم تھے۔دوسرے دن جب صبح سیر کے لئے نکلے مرزا صاحب کے بہت سے متعلقین سے انارکلی (جو بٹالہ میں عیسائیوں کے گرجے اور مشن کے مکان کا نام ہے۔مؤلف) کی سڑک پر مجھ سے ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر کلارک صاحب جس کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ سامنے تھی ہم نے دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب دروازے کے سامنے ڈاکٹر کلارک کے پاس ایک میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔مولوی فضل دین صاحب وکیل مرزا صاحب نے تعجب کے لہجہ میں کہا کہ دیکھو آج مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت ہے۔اور آج بھی یہ شخص ڈاکٹر کلارک کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔اس کے علاوہ احاطہ ء بنگلہ میں عبدالحمید جس کی بابت بیان کیا گیا تھا کہ مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے مرزا صاحب نے اسے تعینات کیا تھا۔ایک چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔رام بھجرت وکیل آریہ اور پولیس کے چند آدمی اُس کے ارد گرد بیٹھے تھے۔اور یہ بھی دیکھا گیا کہ عبدالحمید کے ہاتھوں پر کچھ نشان کئے جارہے ہیں۔چنانچہ وکیل حضرت مرزا صاحب نے ان ہر دو واقعات کو نوٹ کر لیا۔اور جب مقدمہ پیش ہوا تو اول عبدالحمید صاحب سے وکیل حضرت مرزا صاحب نے سوال کیا کہ کیا وہ احاطہ ء کوٹھی مارٹن کلارک میں بیٹھا ہوا تھا اور رام بھیجدت وکیل اور پولیس والے اس کے پاس تھے اور کیا اُس کو مرزا صاحب کے برخلاف جو بیان دینا تھا اس کے لئے کچھ باتیں تلقین کر رہے تھے اور کچھ نشان اس کے ہاتھوں پر کر رہے تھے۔اُس وقت عبدالحمید سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔اُس نے رام بھیجدت وغیرہ کی موجودگی کو تسلیم کیا۔اور جب اُس کے ہاتھ دیکھے گئے تو بہت سے نشانات نیلے اور سرخ پنسل کے پائے گئے۔جو خدا جانے کن کن امور کے لئے اس کے ہاتھ پر بطور یادداشت بنائے گئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شہادت سے قبل مولا نا مولوی نورالدین صاحب کی شہادت ہوئی۔