حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 525
حیات احمد ۵۲۵ جلد چهارم اب مجھے اتمام حجت کے لئے ایک اور تجویز خیال میں آئی ہے اور امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالدے اور یہ تفرقہ جس نے ہزار ہا مسلمانوں میں سخت عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے رو بہ اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء اور مردان باصفا کی خدمت میں اللہ جل شانہ کی قسم دے کر التجا کی جائے کہ وہ میرے بارے میں اور میرے دعوئی کے بارے میں دعا اور تضرع اور استخارہ سے جناب الہی میں توجہ کریں۔پھر اگر اُن کے الہامات اور کشوف اور رویاء صادقہ سے جو حلفاً شائع کریں کثرت اس طرف نکلے کہ گویا یہ عاجز کذاب اور مفتری ہے تو بیشک تمام لوگ مجھے مردود اور مخذول اور ملعون اور مفتری اور کذاب خیال کرلیں اور جس قدر چاہیں لعنتیں بھیجیں اُن کو کچھ بھی گناہ نہیں ہوگا۔اور اس صورت میں ہر ایک ایماندار کولازم ہوگا کہ مجھ سے پر ہیز کرے۔اور اس تجویز سے بہت آسانی کے ساتھ مجھ پر اور میری جماعت پر و بال آجائے گا۔لیکن اگر کشوف اور الہامات اور رویاء صادقہ کی کثرت اس طرف ہو کہ یہ عاجز منجانب اللہ اور اپنے دعوی میں سچا ہے تو پھر ہر ایک خدا ترس پر لازم ہوگا کہ میری پیروی کرے اور تکفیر اور تکذیب سے باز آوے۔ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص کو آخر ایک دن مرنا ہے پس اگر حق کے قبول کرنے کے لئے اس دنیا میں کوئی ذلت بھی پیش آئے تو وہ آخرت کی ذلت سے بہتر ہے لہذا میں تمام مشائخ اور فقرا اور صلحاء پنجاب اور ہندوستان کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں جس کے نام پر گردن رکھ دینا بچے دینداروں کا کام ہے کہ وہ میرے بارے میں جناب الہی میں کم سے کم اکیس روز توجہ کریں یعنی اس صورت میں کہ اکیس روز سے پہلے کچھ معلوم نہ ہو سکے اور خدا سے انکشاف اس حقیقت کا چاہیں کہ میں کون ہوں؟ آیا کذاب ہوں یا منجانب اللہ۔میں بار بار بزرگانِ دین کی خدمت میں اللہ جل شانہ کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ