حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 524
حیات احمد ۵۲۴ جلد چهارم رکھتے ہیں۔اور نہ صرف انکل سے بلکہ نور اللہ سے دیکھتے ہیں۔اور اگر چہ ایسے ضروری امر میں جس میں تمام مسلمانوں کی ہمدردی ہے اور اسلام کے ایک بڑے بھاری تفرقہ کو مٹانا ہے قسم کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی مگر چونکہ بعض صاحب ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض مصالح کی وجہ سے خاموش رہنا پسند کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سچی شہادت میں عام لوگوں کی ناراضگی متصور ہے اور جھوٹ بولنے میں معصیت ہے اور نہیں سمجھتے کہ اخفاء شہادت بھی ایک معصیت ہے ان لوگوں کو توجہ دلانے کے لئے قسم دینے کی ضرورت پڑی۔اے بزرگان دین وہ امر جس کے لئے آپ صاحبوں کو اللہ جل شانہ کی قسم دے کر اُس کے کرنے کے لئے آپ کو مجبور کرتا ہوں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عین ضلالت اور فتنہ کے وقت میں اس عاجز کو چودہویں صدی کے سر پر اصلاح خلق اللہ کے لئے مسجد دکر کے بھیجا۔اور چونکہ اس صدی کا بھارا فتنہ جس نے اسلام کو نقصان پہنچایا تھا عیسائی پادریوں کا فتنہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کا نام مسیح موعود رکھا اور یہ نام یعنی مسیح موعود وہی نام ہے جس کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تھی۔اور خدا تعالیٰ سے وعدہ مقرر ہو چکا تھا کہ تثلیث کے غلبہ کے زمانہ میں اس نام پر ایک مجد د آئے گا۔جس کے ہاتھ پر کسر صلیب مقدر ہے۔اس لئے صحیح بخاری میں اُس مجدد کی یہی تعریف لکھی ہے کہ وہ امت محمدیہ میں سے ان کا ایک امام ہوگا اور صلیب کو توڑے گا۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ صلیبی مذہب کے غلبہ کے وقت آئے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق ایسا ہی کیا اور اس عاجز کو چودہویں صدی کے سر پر بھیجا اور وہ آسمانی حربہ مجھے عطا کیا جس سے میں صلیبی مذہب کو توڑ سکوں مگر افسوس کہ اس ملک کے کو تہ اندیش علما نے مجھے قبول نہیں کیا اور نہایت بے ہودہ عذرات پیش کئے جن کو ہر ایک پہلو سے تو ڑا گیا۔