حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 503 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 503

حیات احمد ۵۰۳ جلد چهارم چودھویں صدی کے عملہ ادارت میں حضرت ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی کی بہت عزت کرتے تھے اور حضرت منشی خادم حسین بھیروی ان کے ماتحت مدرسہ اسلامیہ میں ان اساتذہ میں سے ایک تھے۔جن کا منشی سراج الدین صاحب خاص احترام کرتے تھے با ایں بعض اوقات دوسرے لوگوں کے مضامین کے بصیغہ مراسلات شائع کرنے کو پبلک کا حق سمجھتے تھے۔مگر کبھی ایسے مضامین کو انہوں نے شائع نہ کیا جو متانت اور شرافت سے گرے ہوئے ہوں جہاں تک مجھے یاد بقیہ حاشیہ۔الحق ممنونی غیر مترقبه عظمی بخشید فدایت شوم که استفسار احوال غرائب اشتمال کا دیان و کادیانی ( قادیان و قادیانی) را فرموده بودید - اکنون ما بکمال تمکین ذیلاً بخدمت والاں ہمت و عالی بیان وافاده می کنم که این شخص از عجیب و غریب از صراط المستقیم اسلام برگشته قدم بردائره عَلَيْهِمْ وَالظَّالِيْنَ گذاشته و تزویر محبت حضرت خاتم النبیین را در پیش گرفته و بزعم باطل خویش باب رسالت را مفتوح دانسته است شائستہ ہزاراں خنده است که فرق در بین نبوت و رسالت پنداشته است و معاذ الله تعالی می گوید که خداوند عالم رسول صلعم را گا ہے در فرقان حمید و قرآن مجید بعنوان خاتم المرسلین معنن نکرده است فقط بخطاب خاتم النبیین اکتفا فرموده است- القصہ ایں کہ اول خود را ولی ملہم میگفت بعده مسیح موعود گشتہ آہستہ آہستہ بقول مجرد خود صعود بمرتبہ عالیہ مہدویت کرده اَسْتَعِيْدُ بِاللهِ تَعَالی خود را از خود رائی بہائی معلائے رسالت رسانده است۔بناء علی ہذاظن غالب ما براں است کہ ترقی پنجمیں قدم بر سریر شریر هداد و نمرود نهاده کلاہ الوہیت بر سر سرکش خود که کان خیالات فاسده و بقیہ ترجمہ۔الحق اس نے غیر معمولی ممنونیت عظمیٰ بخشی۔میں آپ پر فدا ہوں کہ آپ نے قادیان اور قادیان کے اردگرد کے حالات کا استفسار فرمایا ہے اب میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ بلند ہمت عالی شان بیان سے افادہ کرتا ہوں کہ یہ شخص عجیب و غریب ہے اور اسلام کے صراط مستقیم سے برگشتہ قدم ہے اور علیم والضالین کے دائرہ میں قدم رکھے ہوئے ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جھوٹ کو سامنے رکھے ہوئے اپنے زعم باطل سے باب رسالت کو کھلا ہوا جانتا ہے یہ بات ہنسی کے لائق ہے کہ وہ نبوت و رسالت کے درمیان فرق سمجھتا ہے اور معاذ اللہ یہ کہتا ہے کہ رسول کریم کو خدا نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں خاتم المرسلین کے عنوان سے معنون نہیں کیا ہے صرف خاتم النبیین کا خطاب ہی عطا فرمایا ہے۔مختصر بات یہ ہے کہ اول اپنے آپ کو ولی مہم کہتا تھا اس کے بعد مسیح موعود ہو گیا۔آہستہ آہستہ صرف اپنے قول سے مہدویت کے مرتبہ عالی تک پہنچا ہے۔اوراللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اس نے اپنے آپ کو اپنی رائے کے مطابق رسالت کے پائے معلی تک پہنچا دیا ہے۔اس بات کا گمان کرتے ہوئے ہم اس بات پر پہنچے ہیں کہ پانچویں قدم کی ترقی کر کے وہ شریر شتہ اور نمرود کے قدم پر چلتے ہوئے الوہیت کا کلاہ اپنے سرکش سر پر رکھے گا